سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 171
سيرة النبي علي 171 جلد 2 صلى الله ہو سکتی۔آپ خاتم النبین ہیں آپ کا فیضان کبھی رُک نہیں سکتا ، آپ کا سرکسی کے احسان کے آگے جھک نہیں سکتا بلکہ آپ کا احسان سب نبیوں پر ہے۔کوئی نبی نہیں جس نے آپ کو منوایا ہو اور آپ کی صداقت آپ کے منکروں سے منوائی ہو۔لیکن کیا لاکھوں کروڑوں انسان نہیں جن سے محمد رسول اللہ ﷺ نے باقی انبیاء کی نبوت منوائی ہے؟ ہندوستان میں آٹھ کروڑ مسلمان بیان کئے جاتے ہیں ان میں سے بہت ہی تھوڑے ہیں جو بیرونی ممالک کے رہنے والے ہیں باقی سب ہندوستان کے باشندے ہیں جو کسی نبی کا نام تک نہ جانتے تھے مگر محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لا کر ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ پر ایمان لے آئے ہیں۔اگر اسلام ان کے گھروں میں داخل نہ ہوا ہوتا تو آج وہ ان نبیوں کو گالیاں دے رہے ہوتے اور ان کو جھوٹے آدمیوں میں سے سمجھ رہے ہوتے جس طرح کہ ان کے باقی بھائی بندوں کا آج تک خیال ہے۔اسی طرح افغانستان کے لوگ اور چین کے لوگ اور ایران کے لوگ کب حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی کو مانتے تھے ان سے ان انبیاء کی صداقت کا اقرار آنحضرت ﷺ نے ہی کرایا ہے۔پس آپ کا سب گزشتہ نبیوں پر احسان ہے کہ ان کی صداقت لوگوں پر مخفی تھی آپ ﷺ نے اس کو ظا ہر فر ما یا مگر آپ پر کسی کا احسان نہیں۔آپ پر اللہ تعالیٰ وہ دن بھی نہیں لائے گا جب آپ کا فیضان بند ہو جائے اور کوئی دوسرا نبی آکر آپ کی امت کی اصلاح کرے۔بلکہ جب کبھی بھی آپ کی امت کی اصلاح کی ضرورت پیش آئے گی اللہ تعالیٰ آپ ہی کے شاگردوں میں سے اور آپ ہی کے امتیوں میں سے ایسے لوگ جنہوں نے سب کچھ آپ ہی سے لیا ہو گا اور آپ ہی سے سیکھا ہو گا مقرر فرمائے گا تا کہ وہ بگڑے ہوؤں کی اصلاح کریں اور گمشدوں کو واپس لائیں اور ان لوگوں کا کام آپ ہی کا کام ہوگا کیونکہ شاگرد اپنے استاد سے علیحد ہ نہیں ہوسکتا اور امتی اپنے نبی سے جدا نہیں قرار دیا جا سکتا۔ان کی گردنیں آپ کے احسان کے آگے جھکی ہوئی ہوں گی اور ان کے دل صلى الله