سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 169
سيرة النبي ع 169 جلد 2 مِنْ ذلِک ختم ہو جائے گا۔کون مسلمان اس بات کو نہیں جانتا کہ جب تک اللہ تعالیٰ کو حضرت موسیٰ کا سلسلہ چلانا منظور تھا اُس وقت تک آپ ہی کے اتباع میں سے ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے جو آپ کی امت کی اصلاح کرتے رہے لیکن جب اسے یہ منظور ہوا کہ آپ کے سلسلے کو ختم کر دے تو اس نے آپ کی قوم میں سے نبوت کا سلسلہ بند کر کے بنو اسماعیل میں سے نبی بھیج دیا۔پس اگر رسول کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی موسوی سلسلہ سے آئے گا تو اس کے یہی معنے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِک رسول کریم ﷺ کے سلسلہ کو بھی ختم کر دے گا اور کوئی اور سلسلہ جاری کرے گا۔اور نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ رسول کریم ﷺ کی قوت قدسیہ اُس وقت کمزور ہو جائے گی اور آپ کا فیضان کسی امتی کو بھی اس امر کے لئے تیار نہ کر سکے گا کہ وہ آپ سے نور پا کر آپ کی امت کی اصلاح کرے اور اسے راہ راست پر لا و افسوس ہے کہ لوگ اپنے لئے تو ضرورت سے زیادہ غیرت دکھاتے ہیں اور کسی قسم کا عیب اپنی نسبت منسوب ہونا پسند نہیں کرتے لیکن خدا کے رسول کی طرف ہر ایک عیب دلیری سے منسوب کرتے ہیں۔اس محبت کو ہم کیا کریں جو منہ تک رہتی ہے مگر دل میں اس کا کوئی اثر نہیں اور اس ولولے کو کیا کریں جو اپنے ساتھ کوئی ثبوت نہیں رکھتا۔اگر فی الواقعہ لوگ رسول کریم ﷺ سے محبت رکھتے تو ایک منٹ کے لئے بھی پسند نہ کرتے کہ ایک اسرئیلی نبی آکر آپ کی امت کی اصلاح کرے گا۔کیا کوئی غیرت مند اپنے گھر میں سامان ہوتے ہوئے دوسرے سے مانگنے جاتا ہے یا طاقت ہوتے ہوئے دوسرے کو مدد کے لیے بلاتا ہے؟ وہی مولوی جو کہتے ہیں کہ نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذلِكَ رسول کریم ﷺ کی امت کے لئے اور اس کو مصائب سے بچانے کے لیے مسیح ناصری علیہ السلام آئیں گے اپنی ذاتوں کے لئے اس قدر غیرت دکھاتے ہیں کہ اگر بحث میں ہار بھی رہے ہوں تو اپنی ہار کا اقرار نہیں کرتے اور کسی دوسرے کو اپنی