سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 168
سيرة النبي الله 168 جلد 2 رسول کریم ﷺ کی قوت قدسیہ کے منافی عقیدہ حضرت مصلح موعود دعوۃ الامیر کتاب میں ہی مسلمانوں میں حضرت رسول کریم کی قوت قدسیہ کے منافی را نج مسیح کی آمد ثانی کے عقیدہ کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :۔مسیح ناصری کے دوبارہ واپس آنے میں اللہ تعالیٰ کی قدرت پر حرف آتا ہے، آنحضرت ﷺ کی قوت قدسیہ پر بھی حرف آتا ہے کیونکہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام کو ہی دوبارہ دنیا میں واپس آنا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پہلی تمام امتیں جب بگڑتی تھیں تو ان کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ انہیں میں سے ایک شخص کو کھڑا کر دیتا تھا مگر ہمارے آنحضرت ﷺ کی امت میں جب فساد پڑے گا تو اس کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ پہلے انبیاء میں سے ایک نبی کو واپس لائے گا خود آپ کی امت میں سے کوئی فرد اس کی اصلاح کی طاقت نہیں رکھے گا۔اگر ہم یہ بات تسلیم کر لیں تو ہم یقیناً مسیحیوں اور یہودیوں سے رسول کریم عملے کی دشمنی میں کم نہ ہوں گے کیونکہ وہ بھی رسول کریم ﷺ کی قوت قدسیہ پر معترض ہیں اور اس عقیدے کے ساتھ ہم بھی آپ کی قوت قدسیہ پر معترض ہو جاتے ہیں۔جب چراغ جل رہا ہو تو اس سے اور چراغ یقینا روشن ہو سکتے ہیں۔وہ بجھا ہوا چراغ ہوتا ہے جس سے دوسرا چراغ روشن نہیں ہو سکتا۔پس اگر رسول کریم ﷺ کی امت پر کوئی زمانہ ایسا بھی آنا ہے کہ اس کی حالت ایسی بگڑ جائے گی کہ اس میں سے کوئی شخص اس کی اصلاح کے لئے کھڑا نہیں ہو سکے گا تو ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اُس وقت رسول کریم ﷺ کا فیضان بھی نَعُوذُ بِاللهِ