سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 165

سيرة النبي علي 165 جلد 2 کہ عرب کے لوگ جب محمد رسول اللہ ﷺ سے کہیں کہ اَوْ تَرْقُ فِي السَّمَاءِ وَلَنْ تُؤْمِنَ لِرَقِيَّكَ حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتبًا نَّقْرَؤُهُ 2۔یعنی ہم تجھے نہیں مانیں گے جب تک کہ تو آسمان پر نہ چڑھ جائے اور ہم تیرے آسمان پر چڑھنے کا یقین نہیں کریں گے جب تک کہ تو کوئی کتاب بھی آسمان پر سے نہ لائے جسے ہم پڑھیں تو اللہ تعالیٰ آپ سے فرمائے کہ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولًا 3۔ان سے کہہ دے کہ میرا رب ہر کمزوری سے پاک ہے میں تو صرف ایک بشر رسول ہوں لیکن حضرت مسیح کو وہ آسمان پر اٹھا کر لے جائے۔جب محمد رسول اللہ ﷺ کا سوال آئے تو انسانیت کو آسمان پر چڑھنے کے مخالف بتایا جائے لیکن جب مسیح کا سوال آئے تو بلا ضرورت ان کو آسمان پر لے جایا جائے۔کیا اس سے یہ نتیجہ نہ نکلے گا کہ مسیح علیہ السلام آدمی نہیں تھے بلکہ خدا تھے؟ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذلک۔یا پھر یہ نتیجہ نکلے گا کہ آپ رسول کریم ﷺ سے افضل تھے اور اللہ تعالیٰ کو زیادہ پیارے تھے مگر جب کہ یہ بات اظهر من الشمس ہے کہ آنحضرت علی سب رسولوں اور نبیوں سے افضل ہیں تو پھر کس طرح عقل باور کر سکتی ہے کہ آپ تو آسمان پر نہ جائیں بلکہ اسی زمین پر فوت ہوں اور زمین کے نیچے دفن ہوں لیکن مسیح صلى الله علیہ السلام آسمان پر چلے جائیں اور ہزاروں سال تک زندہ رہیں۔پھر یہ سوال صرف غیرت ہی کا نہیں بلکہ رسول کریم ﷺ کی صداقت کا بھی سوال ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ لَوْ كَانَ مُوسَى وَعِيْسَى حَيَّيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتَّبَاعِی 4- اگر موسی و عیسی زندہ ہوتے تو میری اطاعت کے سوا ان کو کوئی چارہ نہ تھا۔اگر حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں تو پھر آپ کا یہ قول نَعُوذُ بِالله باطل ہو جاتا ہے کیونکہ آپ لوگان “ کہ کر اور موسی کے ساتھ عیسی کو ملا کر دونوں نبیوں کی وفات کی خبر دیتے ہیں۔پس نبی کریم ﷺ کی شہادت کے بعد کس طرح کوئی شخص آپ کی امت میں سے کہلا کر یہ یقین رکھ سکتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں۔اگر وہ