سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 160
سيرة النبي الله 160 جلد 2 رسول کریم مالی بحثیت محتاط ترین قاضی 1922 ء میں حضرت مصلح موعود نے والی افغانستان امیر امان اللہ خان کو ایک پیغام بھیجا جو 1924ء میں دعوۃ الامیر کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہوا۔اس پیغام میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا بھی ضمناً ذکر کیا گیا ہے۔رسول کریم ه محتاط ترین قاضی بھی تھے اس حوالے سے حضرت مصلح موعود تحریر فرماتے ہیں:۔رسول کریم ﷺ سے زیادہ عارف اور کون ہوگا۔آپ اپنی نسبت فرماتے ہیں إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَى وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضُكُمْ أَنْ يَكُونَ الْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضِ فَإِنْ قَضَيْتُ لاَحَدٍ مِّنكُمُ بِشَيْءٍ مِنْ حَقٌّ أَخِيهِ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِّنَ النَّارِ فَلَا يَأْخُذُ مِنْهُ شَيْئًا 1۔یعنی تم میں سے بعض لوگ میرے پاس جھگڑا لاتے ہیں اور میں بھی آدمی ہوں ممکن ہے کہ کوئی آدمی تم میں سے دوسرے کی نسبت عمدہ طور جھگڑا کرنے والا ہو۔پس اگر میں تم میں سے کسی کو اس کے بھائی کا حق دلا دوں تو میں اسے ایک آگ کا ٹکڑا کاٹ کر دیتا ہوں اسے چاہئے کہ اسے نہ ا ہے۔اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ اسامہ بن زید کو رسول کریم ﷺ نے ایک فوج کا افسر بنا کر بھیجا۔ایک شخص کفار میں سے ان کو ملا جس پر انہوں نے حملہ کیا۔جب وہ اس کو قتل کرنے لگے تو اس نے کلمہ شہادت پڑھ دیا مگر باوجود اس کے انہوں نے اسے قتل کر دیا۔جب رسول کریم ﷺ کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے ان سے دریافت کیا کہ انہوں نے کیوں ایسا کیا ہے؟ اس پر اسامہ نے کہا کہ یا رسول اللہ ! وہ ڈر سے اسلام