سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 152
سيرة النبي الله 152 جلد 2 رسول کریم ﷺ اور معاہدات کی پابندی اور الله الله حضرت مصلح موعود نے 30 جون 1922 ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔" رسول کریم ﷺ نے صلح حدیبیہ کی۔اُس وقت بعض مسلمانوں نے کہا کہ یہ دب کر صلح کی گئی جیسا کہ ہمارے متعلق کہا جاتا ہے۔بعض صحابہ کا خیال تھا کہ اسلام کے حقوق کی پوری حفاظت نہیں کی لیکن محمد ﷺ نے جو کچھ کیا تھا وہ خدا تعالیٰ کی تعلیم کے مطابق کیا اس لئے آپ کو اس سے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچ سکتا تھا۔اس معاہدے کی دوشرطیں ایسی تھیں جن کو کمزور خیال کیا جاتا تھا۔ایک شرط یہ تھی کہ اگر کوئی شخص صلى الله مرتد ہو جائے اور آنحضرت علی سے جدا ہو کر مکہ والوں کے پاس چلا جائے تو وہ واپس نہ لیا جائے گا۔اور اگر کوئی شخص مسلمان ہو کر آنحضرت ﷺ کے پاس چلا آئے تو آپ اس کو مکے والوں کے پاس واپس کر دیں گے 1۔بظاہر یہ کمزوری کی شرط تھی۔مکہ والوں میں سے بعض شخص مسلمان ہو کر مکہ سے بھاگ آئے اور ان کے تعاقب میں مکہ کے لوگ آئے۔جب وہ مسلمان آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پہنچے تو کافروں نے کہا کہ آپ کا معاہدہ ہے کہ آپ مکہ سے آنے والوں کو واپس کر دیں گے اپنے معاہدہ کو پورا کیجئے۔آپ نے فرمایا نبی معاہدہ شکن نہیں ہوتے آپ اس کو لے جائیں۔وہ لے گئے 2ے مگر اس نے ایک کو موقع پا کر راستہ میں قتل کر ڈالا اور دوسرا بھاگ گیا۔پھر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ آپ نے اپنا معاہدہ پورا کر دیا اب میں خود بیچ کر آیا ہوں۔آپ نے فرمایا تم چلے جاؤ ہم معاہدہ کے خلاف نہیں کر سکتے 3۔وہ وہاں سے بھاگ کر شام کے اس راستہ پر بیٹھ گیا جہاں سے ا