سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 141
سيرة النبي عمال 141 جلد 2 وہی کونے کا سرا ہوا۔یہ خداوند کی طرف سے ہے اور ہماری نظروں میں عجیب۔اس لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہت تم سے لے لی جائے گی اور ایک قوم کو جو اس کے میوہ لاوے دی جائے گی۔جو اس پتھر پر گرے گا چور ہو جائے گا پر جس پر وہ 66 66 گرے گا اسے پیس ڈالے گا 5۔“ اور جس کے حق میں موسی نے خبر دی تھی کہ خداوند نے مجھے کہا کہ انہوں نے جو کچھ کہا سو اچھا کہا میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی بر پا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے فرماؤں گا وہ سب ان سے کہے گا اور ایسا ہوگا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنھیں وہ میرا نام لے کے کہے گا نہ سنے گا تو میں اس کا حساب اس سے لوں گا۔“ یہ جو نوشتوں میں لکھا گیا اس کا پورا ہونا ضرور تھا ورنہ خدا کے برگزیدوں موسی اور مسیح پر جھوٹ کا حرف آتا تھا کیونکہ کہا گیا تھا کہ ”ٹو جان رکھ کہ جب نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے اور وہ جو اس نے کہا ہے واقع نہ ہو یا پورا نہ ہوتو وہ بات خداوند نے نہیں کہی بلکہ اس نبی نے گستاخی سے کہی ہے۔۔“ مگر جو کچھ برگزیدوں نے کہا تھا وہ حرف بحرف پورا ہوا اور بنی اسرائیل کے بھائیوں یعنی حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے اسمعیل کی اولاد میں سے خدا تعالیٰ نے موسی کی مانند ایک نبی بر پا کیا جس کے ذریعہ سے ہدایت کا باغ بنی اسرائیل سے لے کر مسلمانوں کے سپرد کیا گیا اور وہ جسے راج گیروں نے رد کیا تھا کونے کا پتھر ہوا۔جو اس پر گرا یعنی جو اس کے شہر پر جا کر حملہ آور ہوا وہ بھی چکنا چور ہوا اور جس پر وہ گرا یعنی جس پر اس نے جا کر حملہ کیا وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوا۔اور جس نے اس کی بات نہ سنی اس سے خدا نے اس کا حساب لیا۔اس وجود سے مراد حضرت مسیح علیہ السلام ہرگز نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ خود فرماتے ہیں کہ یہ نبی ان کے صلیب پر لٹکائے جانے کے بعد آئے گا۔اور نہ کلیسیا اس سے مراد ہو سکتا ہے کیونکہ کلیسیا نبی نہیں ہے اور نوشتے بتاتے