سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 140
سيرة النبي عمال کرتے ہیں:۔140 جلد 2 66 دو کسی شخص نے ایک انگور کا باغ لگا کے اسے باغبانوں کے سپرد کیا اور مدت تک پردیس میں جارہا اور موسم پر ایک نوکر کو باغبانوں کے پاس بھیجا تا کہ وے اس انگور کے باغ کا پھل اس کو دیں لیکن باغبانوں نے اس کو پیٹ کے خالی ہاتھ پھیرا۔پھر اس نے دوسرے نوکر کو بھیجا انہوں نے اس کو بھی پیٹ کے اور بے عزت کر کے خالی ہاتھ پھیرا۔پھر اس نے تیسرے کو بھیجا انہوں نے گھائل کر کے اس کو بھی نکال دیا۔تب اس باغ کے مالک نے کہا کہ کیا کروں، میں اپنے پیارے بیٹے کو بھیجوں گا شاید اسے دیکھ کر دب جائیں۔جب باغبانوں نے اسے دیکھا، آپس میں صلاح کی اور کہا کہ یہ وارث ہے آؤ اس کو مار ڈالیں کہ میراث ہماری ہو جائے۔تب اس کو باغ کے باہر نکال کے مارڈالا۔اب باغ کا مالک ان کے ساتھ کیا کرے گا ؟ وہ آوے گا اور ان باغبانوں کو قتل کرے گا اور باغ اوروں کو سونے گا ہے۔اس تمثیل میں باغ سے مراد وہ ہدایت ہے جو خدا تعالیٰ نے قائم کی اور باغ بنانے والا موسی تھا جو خدا تعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر جذب کر کے اس کے جلال کے اظہار کے لئے دنیا میں آیا اور باغ کے باغبانوں سے مراد بنی اسرائیل تھے اور نوکر جو میوہ کا حصہ لینے گئے وہ انبیاء تھے جو موسٹی کے بعد بھیجے گئے اور بیٹا خود حضرت مسیح تھے جو سب کے بعد میں آئے مگر موسی کے بعد کے نبیوں میں سب سے زیادہ خدا تعالیٰ کے مقرب اور پیارے تھے لیکن بنی اسرائیل نے ان کی بھی قدر نہ کی اور ان کو صلیب پر چڑھا دیا تو پھر اس تمثیل کے مطابق ہی ہونا رہ گیا کہ وہ نبی ظاہر ہو جس کا ظہور گویا خدا تعالیٰ کا ظہور تھا اور وہ پچھلی سنت کے برخلاف بنی اسرائیل میں سے نہ ہو بلکہ ان کے بھائیوں یعنی بنی اسماعیل میں سے ہو جس کی نسبت حضرت مسیح علیہ السلام کہتے ہیں " کیا تم نے نوشتوں میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو راج گیروں نے ناپسند کیا