سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 130
سيرة النبي عمال 130 جلد 2 صلى الله نے اپنی صورت پر بنایا پس چاہئے کہ اس کی صورت کا ادب اور احترام کرو۔اس سے معلوم ہوا کہ خدا کی صورت ہے ورنہ رسول کریم ﷺ کیوں فرماتے کہ آدم کو خدا نے اپنی صورت پر پیدا کیا ہے تم اس کی صورت کا ادب اور احترام کرو۔یاد رکھنا چاہئے کہ رسول کریم ﷺ کے اس ارشاد کے دو معنی ہیں۔ایک تو یہ ہے کہ صورت کے معنی عربی میں وصف اور صفت کے بھی آتے ہیں اس لئے اِنَّ اللهَ خَلَقَ ادَمَ عَلى صُورَتِہ کے یہ معنی ہوئے کہ خدا نے آدم کو اپنی صفات پر پیدا کیا ہے۔جیسے فرما یا عَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا 2 یعنی خدا نے اپنی وہ ساری صفات جو بندوں سے تعلق رکھتی ہیں آدم کو سکھا ئیں۔یعنی انسان کو خدا نے ایسا دماغ دیا کہ جو اس کی صفات کو جلوہ گر کر سکے۔وہ شخص چونکہ اپنے غلام کے منہ پر مار رہا تھا اور ممکن تھا کہ اس کے دماغ کو صدمہ پہنچے اس لئے رسول کریم ﷺ نے اسے فرمایا کہ اس طرح نہ مارو اور جس سے وہ غرض جس کے لئے انسان بنایا گیا ہے وہ باطل ہو جائے گی۔چنانچہ دوسری حدیثوں سے بھی پتہ لگتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا منہ پر نہیں مارنا چاہئے 2۔وجہ یہ کہ دماغ مرکز ہے ساری صفات کا اور اس کو صدمہ پہنچنے سے صفات کا ظہور رک جاتا ہے۔اس لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا خدا کی صفات کا ادب کرو خدا نے انسان کا دماغ اس لئے پیدا کیا ہے کہ اس کی صفات اخذ کرے۔مگر تم منہ پر مارتے ہو جس سے خطرہ ہوتا ہے کہ دماغ کو جو اس کے بالکل قریب ہے صدمہ جائے اور انسان کی عقل کو نقصان پہنچ جائے جس سے وہ اپنی پیدائش کی غرض کو پورا کرنے سے ہی محروم ہو جائے۔اس حدیث کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں عَلى صُورَتِهِ سے مراد عَلَى صُورَةِ الإنسان ہو۔یعنی آدم کو اس کے مناسب حال شکل پر پیدا کیا۔اس صورت میں اس حدیث کا یہ مطلب ہوگا کہ چونکہ وہ زور سے مار رہا تھا اس لئے ممکن تھا کہ غلام کا کوئی عضو ٹوٹ جاتا۔اس پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا خدا نے تو اس کو اس کے مناسب حال