سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 129
سيرة النبي الله 129 جلد 2 ہستی باری تعالی سے متعلق رسول کریم مے کی ایک حدیث کا مفہوم حضرت مصلح موعود ہستی باری تعالی، لیکچر فرمودہ 27 دسمبر 1921ء میں خدا تعالیٰ کی ذات کی شکل وصورت سے متعلق رسول کریم ﷺ کی حدیث کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔" خدا تعالیٰ کے متعلق یہ سوال بھی پیدا کیا خدا کی کوئی صورت شکل ہے؟ ہوتا ہے کہ کیا اس کی کوئی صورت شکل بھی ہے؟ اس کا جواب اسلام یہ دیتا ہے کہ اس کی کوئی صورت شکل نہیں۔صورت کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ ایک جسم ہے جو مختلف حصے رکھتا ہے اور ہر ایک حصہ کی ایک حد بندی ہے مگر خدا سب حد بندیوں اور سب تقسیموں سے پاک ہے اس لئے اس کی کوئی صورت نہیں ہو سکتی۔صورت صرف مادی اشیاء کے لئے ہوتی ہے بلکہ ان میں سے بھی کثیف مادی اشیاء کی۔خدا کوئی جسم نہیں رکھتا بلکہ جسموں اور مادے کا خالق ہے۔حدیث میں خدا کی صورت اس بیان پر سوال ہو سکتا ہے کہ بعض حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی صورت ہے ان بتانے کا کیا مطلب ہے؟ احادیث کا کیا مطلب ہے؟ چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ ایک دن رسول کریم کے باہر نکلے اور آپ نے دیکھا کہ ایک شخص اپنے غلام کو مار رہا ہے۔اس پر آپ نے فرمایا انَّ اللهَ خَلَقَ ادَمَ عَلَى صُورَتِهِ 1 که آدم کو خدا