سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 127

سيرة النبي الله 127 جلد 2 علاوہ جو دنیا میں ایک مقررہ قاعدہ کے ماتحت ہو رہی ہے ایک خاص تخلیق بھی ثابہ ہو جائے تو ماننا پڑے گا کہ ایک ایسی ہستی ہے جس کی قدرت میں ہے کہ جو چاہے پیدا کرے اور یہ خدا تعالیٰ کے موجود ہونے کا ایک زبر دست ثبوت ہوگا۔اس صفت کے ثبوت کے طور پر میں رسول کریم ﷺ کا ایک واقعہ پیش کرتا ہوں۔آپ ایک دفعہ کہیں جارہے تھے کہ آپ کے ساتھیوں کے پاس جو پانی تھا وہ ختم ہو گیا۔اتنے میں آپ نے دیکھا کہ ایک عورت پانی لئے جارہی ہے۔آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ یہاں سے پانی کتنے فاصلہ پر ہے؟ اس نے کہا تین منزل پر۔چونکہ ایک لشکر آپ کے پاس تھا اور پانی ختم ہو چکا تھا آپ نے اس سے پانی کا مشکیزہ لے لیا اور اس کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ کر لوگوں کو پانی دے دیا۔اللہ تعالیٰ نے اس میں ایسی برکت دی کہ سب کی ضرورت بھی پوری ہوگئی اور اس عورت کے لئے بھی پانی بیچ رہا۔یہ ایک زبر دست نشان صفت خالقیت کے ثبوت میں ہے اور اس واقعہ کے سچے ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ جب اس واقعہ کو اس کی قوم نے معلوم کیا تو وہ سب کی سب ہستی باری تعالیٰ صفحہ 67 68 ) 66 مسلمان ہو گئی 2۔“ صفت شافی کا ظہور ”ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ایسے نظارے نظر آتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے غیر معمولی طور پر شفا بعض مریضوں کو ملتی ہے بغیر اس کے کہ طبعی ذرائع استعمال ہوں۔یا ان موقعوں پر شفا ملتی ہے کہ جب طبعی ذرائع مفید نہیں ہوا کرتے۔چنانچہ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے واقعات میں سے اس قسم کی شفا کی ایک مثال جنگ خیبر کے وقت ملتی ہے۔خیبر کی جنگ کے دوران میں ایک دن آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ خیبر کی فتح اس شخص کے لئے مقدر ہے جس کے ہاتھ میں میں جھنڈا دوں گا۔حضرت عمرؓ فرماتے ہیں جب وہ وقت آیا تو میں نے گردن اونچی کر کر کے دیکھنا شروع کیا کہ شاید مجھے ہی رسول کریم جھنڈا دیں مگر آپ نے انہیں اس کام کے لئے مقرر نہ فرمایا۔اتنے