سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 126
سيرة النبي عل الله 126 جلد 2 لے آئے۔وہاں آکر انہوں نے کہا کہ یا تو محمد ( ﷺ ) یہاں ہے یا پھر آسمان پر چڑھ گیا ہے اس سے آگے نہیں گیا۔جب یہ باتیں ہو رہی تھیں تو نیچے آپ بھی سن رہے تھے۔حضرت ابوبکر کو ڈر پیدا ہوا کہ میں اکیلا کیا کرسکوں گا ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ خدا کے رسول کو پکڑ لیں۔لیکن جس شخص کے متعلق آپ ڈر رہے تھے اور جو شخص حقیقتا مکہ والوں کو مطلوب تھا وہ اس خوف کے وقت میں فرماتا ہے لَا تَحْزَنُ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا 1 غم نہ کھا خدا ہمارے ساتھ ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ کھوجی جن کی بات پر ان لوگوں کو بہت ہی یقین ہوتا تھا وہ کہتے ہیں کہ آپ اس جگہ آئے ہیں مگر کوئی آگے بڑھ کر غار کے اندر نہیں جھانکتا اور یہ کہہ کر کہ یہاں ان کا ہونا ناممکن ہے لوگ واپس چلے جاتے ہیں۔میں جب مکہ گیا تھا تو اس غار کو دیکھنے کے لئے بھی گیا تھا لیکن اوپر چڑھتے ہوئے میرا سانس پھول گیا اور میں وہاں تک نہ جاسکا دوسرے آدمی کو بھیجا کہ جا کر دیکھ آئے۔اس نے آکر بتایا کہ اس غار کا منہ اچھا چوڑا ہے ایک چارپائی کے قریب ہے لیکن کیا یہ عجیب بات نہیں کہ باوجود اس کے کہ ہر اک بات اس کی طرف اشارہ کر رہی تھی کہ آپ اس غار میں ہیں اور وہ لوگ اس قدر جوش سے آپ کی تلاش میں آئے تھے مگر باوجود آپ کی گرفتاری کی دلی خواہش کے اور واقعات کے آپ کے وہاں موجود ہونے کی طرف اشارہ کرنے کے ان کو اس قدر توفیق نہ ملی کہ ذرا جھک کر غار میں دیکھ لیتے۔ان کے سامنے کوئی توپ نہیں تھی جس کا انہیں ڈر ہو سکتا تھا نہ کوئی اور روک اور مشکل تھی۔لیکن ان میں سے کوئی بھی غار کو نہیں دیکھتا اور سارے واپس چلے جاتے ہیں۔آپ کے إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا کہنے کے بعد ان لوگوں کا اس طرح خائب و خاسر چلے جانا کیا اس امر پر دلالت نہیں کرتا کہ آنحضرت ایک زبردست طاقت کی حفاظت میں تھے۔“ ہستی باری تعالیٰ صفحہ 65، 66 ) صفت خالقیت کا ظہور پانچویں مثال کے طور پر میں صفت خلق کو بیان کرتا ہوں۔یہ بات واضح ہے کہ اگر تمام تخلیق کے