سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 119
سيرة النبي ع 119 جلد 2 رسول کریم ﷺ کی اور حضرت پس آنحضرت ﷺے موسی کے مثیل اور صلى الله اس سے مشابہ تھے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ موسی کی کامیابیوں کا مقابلہ جہاں آپ کو حضرت موسی سے بہت سی مشابہتیں ہیں وہاں آپ کی کامیابیاں حضرت موسی سے بڑھی ہوئی ہیں۔حضرت موسی سے بھی ایک وعدہ کیا گیا تھا کہ کنعان کی زمین ان کو دی جاوے گی تا کہ وہ ہمیشہ کے لئے ان کے ٹھہرنے کا مقام ہو۔آنحضرت ﷺ کو بھی ایک وعدہ دیا گیا تھا کہ حرم ( حوالی مکہ) کی سرزمین ان کو دی جاوے گی تا ہمیشہ کے لئے ان کے ٹھہرنے کا مقام ہو۔مگر حضرت موسی جب اس ملک کے فتح کرنے کے لئے چلے تو با وجود اس کے کہ ان کی قوم نے ان سے پوری مدد کا وعدہ کیا تھا عین موقع پر انہوں نے موسی کو یہ جواب دیا کہ یموسى إِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا أَبَدًا مَّا دَامُوا فِيْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا قُعِدُونَ 3 یعنی اے موسیٰ ! ہم اس زمین میں کبھی داخل نہ ہوں گے جب تک کہ اس میں اس کے پہلے قابض لوگ موجود ہیں۔پس تو اور تیرا رب جاؤ اور ان سے جا کر لڑو ہم تو یہ بیٹھے ہیں۔حتی کہ حضرت موسی کے ساتھ صرف چند آدمی رہ گئے اور لڑائی کا ارادہ چھوڑنا پڑا۔اس کے مقابلہ میں ہمارے آنحضرت علے جب مدینہ تشریف لائے تو آپ کا انصار سے یہ معاہدہ تھا کہ صرف اُس وقت کہ ہم پر مدینہ میں کوئی حملہ آور ہو تمہارا فرض ہوگا کہ تم ہماری مدد کرو اور یہ معاہدہ، بیعت عقبہ کے وقت جو انصار سے آپ نے ہجرت کرنے سے پہلے مکہ مکرمہ میں لی تھی کیا تھا۔چنانچہ مشہور مؤرخ ابن ہشام لکھتا ہے کہ انصار نے رسول اللہ صلى الله سے معاہدہ کیا تھا کہ یا رسول اللہ! إِنَّا بُرَاءٌ مِنْ ذِمَامِكَ حَتَّى تَصِلَ إِلَى دِيَارِنَا فَإِذَا وَصَلْتَ إِلَيْنَا فَأَنْتَ فِي ذِمَّتِنَا نَمُنَعُكَ مِمَّا نَمْنَعُ مِنْهُ أَبْنَاءَنَا وَنِسَاءَ نَا4۔یعنی یا رسول اللہ ! مدینہ سے باہر ہم آپ کی حفاظت کے ذمہ دار نہیں۔ہاں مدینہ پہنچ کر ہم آپ کے ذمہ دار ہیں۔ہم جن باتوں سے اپنے بیٹوں اور عورتوں صلى الله