سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 115

سيرة النبي عل الله 115 جلد 2 محمد (ع) مکہ والا تھا، مکہ اس کا وطن تھا مگر وہ مکہ نہیں گیا مدینہ گیا۔اس پر انصار رو پڑے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! کسی نادان نوجوان نے یہ بات کہی ہے۔آپ نے فرمایا جو بات کہی گئی وہ تو کہی گئی اب تم دنیاوی ترقی کی امید نہ رکھنا اور حوض کوثر پر ہی آکر مجھ سے مانگنا 1۔اور ایسا ہی ہوا۔پھر دنیاوی ترقی ان کو نہیں ملی۔ہم مغل اور پٹھان جو پیچھے آئے ہمیں خدا نے دنیا کی حکومت دے دی مگر وہ انصار جنہوں نے رسول کریم ﷺ کے لئے اور آپ کے ساتھ اپنے خون بہائے ان کو ایک ریاست بھی نہ دی صرف ایک فقرہ کی وجہ سے۔“ (الفضل 19 دسمبر 1921ء) 1: بخاری کتاب فرض الخمس باب ما كان النبى الله يعطى المولفة قلوبهم صفحه 523 حدیث نمبر 3147 مطبوعہ رياض 1999 الطبعة الثانية