سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 116
سيرة النبي الله 116 جلد 2 رسول کریم علیہ کے چند نمایاں اخلاق حضرت مصلح موعود 23 دسمبر 1921ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔الله تمام احباب کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ رسول کریم ﷺ نے جو ہدایات ہماری زندگی کی درستی اور نفع اور فائدہ کے لئے دی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہر ایک مومن کا فرض ہے کہ اپنے مہمان کا اکرام کرے 1۔اکرام ضیف آجکل ذلیل بات سمجھی جاتی ہے لیکن یہ ایسے اعلیٰ درجہ کے رکنوں میں سے ہے کہ اس کے پابند کو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں ضائع نہیں کرتا۔رسول کریم ﷺ پر جب وحی ہوئی تو آپ کو طبعا گھبراہٹ ہوئی کہ الہام کبھی انعام کے طور پر ہوتا ہے کبھی ابتلا کے طور پر۔اس لئے آپ نے گھبرا کر اپنی بیوی سے ذکر کیا کہ ایسے نظارے دیکھے ہیں اور اس قسم کی آوازیں سنی ہیں مجھے ڈر آتا ہے۔حضرت خدیجہ نے کہا کہ میرے نزدیک یہ خیر ہے كَلَّا وَاللَّهِ لَا يُخْزِيْكَ اللَّهُ 2 ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ تجھے ضائع کرے۔اب سوال ہوتا ہے کہ کیوں نہ کرے؟ ان باتوں میں سے ایک بات کے متعلق حضرت خدیجہ فرماتی ہیں آپ میں مہمان نوازی اور غرباء کی ہمدردی کی صفت پائی جاتی ہے۔حضرت خدیجہ کی یہ بات کیسی سچی تھی۔دنیا آنحضرت میے کے مقابلہ میں آئی لیکن ہر حالت میں حضرت خدیجہ کا یہ فقرہ سنہری حرفوں میں آسمانوں پر لکھا ہوا نظر آتا ہے كَلَّا وَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللهُ - رسول کریم ﷺ کے اخلاق اور آپ کی خوبیاں جتنی انواع واقسام کی تھیں ان کا اندازہ نہ تھا پھر بھی حضرت خدیجہ کا ان چند کو لینا جن میں اکرام ضیف بھی ہے اس