سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 107

سيرة النبي عالم 107 جلد 2 درود کے الفاظ کی ترتیب میں حکمت حضرت مصلح موعود نے 22 جولا ئی 1921ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔" قرآن کریم کے ہر ایک لفظ میں اتنی حکمتیں ہیں کہ ہر ایک آدمی ان تک نہیں پہنچ سکتا۔آج ایک موٹی سی بات بیان کرتا ہوں۔اس کا دوسرا حصہ پھر انشاء اللہ کبھی موقع ہوا تو بیان کروں گا۔درود شریف سب مسلمان پڑھتے ہیں مگر اس کا اصل مفہوم اکثر نہیں سمجھتے۔ان کو معلوم نہیں کہ ان کے درود پڑھنے سے نبی کریم ﷺ کو کیا فائدہ پہنچتا ہے اور ان کے اپنے ایمان کو کیا فائدہ ہوسکتا ہے۔ایک بچہ روپے، ہیرے، جواہر کی قدر نہیں کرے گا مگر روٹی کے ٹکڑے کو منہ میں ڈال لے گا۔اس وقت میں درود کے ظاہری الفاظ کو لے کر ان کی خوبی سناتا ہوں۔درود میں صل پہلے رکھا ہے اور بارِک بعد میں۔مسلمانوں کو شاذ ہی خیال آیا ہوگا کہ صَلِّ پہلے کیوں اور بَارِكْ بعد میں کیوں ہے اور اس ترتیب میں خوبی کیا ہے۔جو شخص غور کرے گا اور علم سے اس پر نگاہ ڈالے گا اس پر اس کی حقیقت ظاہر ہو جاوے گی۔عربی میں صلوٰۃ کے معنی دعا کے ہیں۔اللَّهُمَّ صَلِّ کے معنی ہوئے اے اللہ ! تو رسول کریم ﷺ کے لئے دعا کر۔اب دعا دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک وہ شخص دعا کرتا ہے جس کے پاس کچھ نہیں ہوتا وہ دوسرے سے التجا کرتا ہے جیسے ماں باپ یا دوست سے مدد طلب کرنا۔اور دوسرے اس شخص کی دعا ہوتی ہے جس کا اپنا اختیار ہوتا ہے۔اس کے معنی ہیں کہ وہ خود عطا کر دیتا ہے۔خدا تعالیٰ بادشاہ ہے۔کبھی مانتا ہے کبھی نہیں۔خدا تعالیٰ کی دعا کے معنی ہیں کہ وہ ہوا، پانی، زمین، پہاڑ غرضیکہ سب مخلوق کو کہتا ہے کہ میرے بندے کی