سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 106
سيرة النبي الله 106 جلد 2 مصائب میں رسول کریم ہے کی کیفیت عمل حضرت مصلح موعود نے 8 جولائی 1921ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔ر نبی کریم ﷺ پر بہت مصائب آئے مگر ان سے آپ پر کبھی خوف طاری نہیں ہوا۔آپ کو جنگ احد کے وقت کفار نے پکارا کہ محمد (ﷺ) کہاں ہے؟ آپ نے صحابہ کو جواب دینے سے منع فرمایا۔پھر کفار نے ابو بکر وعمر کو پکارا اور آپ نے خاموشی کا ہی حکم دیا۔مگر جب کفار نے پکارا اُعْلُ هُبل - اُعْلُ هُبل تب نبی کریم ﷺ کی غیرت جوش میں آئی اور آپ نے فرمایا کہ کیوں نہیں جواب دیتے الله اغلی وَاجَلُّ 1۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کبھی اپنی ذاتی اور اپنی جماعت کی عزت کو مدنظر نہیں رکھا بلکہ آپ کے مد نظر ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے نام کی عزت رہی ہے۔مومن مشکلات اور مصائب کے وقت زیادہ بہادر اور دلیر ہو جاتا ہے کیونکہ جو خدا کا ہو جاتا ہے وہ کبھی ہلاک نہیں ہوتا۔اگر اس پر مصیبتیں اور تکلیفیں دوسروں سے زیادہ آئیں تو بھی وہ سلامت رہتا ہے اور آگے سے بھی بڑھ کر اپنے فرض کو ادا کرتا ہے۔ہر ایک کام کرتے وقت اس بات کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ یہ کام اس مقصد کے خلاف اور اس سے دور لے جانے والا تو نہیں جس کے لئے ہم پیدا کئے گئے ہیں۔یہی خدا تعالیٰ کا قرب اور اس کی معرفت حاصل کرنے کا راز اور گر ہے۔‘“ (الفضل 5 ستمبر 1921ء) 1 بخاری کتاب المغازی باب غزوة احد صفحہ 685،684 حدیث نمبر 4043 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية 66