سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 94

سيرة النبي عمال 94 جلد 2 نکلتے ہوئے کلمہ شہادت زور سے پڑھا۔اس پر مشرکین جمع ہو گئے اور آپ کو مارنے لگے اور آپ بیہوش ہو گئے۔بعض لوگوں نے آپ کو چھڑا دیا اور اسی طرح ہوش آنے پر آپ نے پھر ایسا ہی کیا۔لوگ پھر مارنے لگے 1۔ایسی ایسی مصیبتیں تھیں جو آنحضرت ﷺ اور صحابہ کو پہنچائی گئیں۔ان حالات میں آپ کے اصحاب کو حبشہ کی طرف ہجرت کرنی پڑی اور کفار نے ان کا وہاں تک تعاقب کیا مگر وہاں کے دربار میں جب مسلمان پیش ہوئے اور انہوں نے صفائی۔اپنے عقائد بتائے تو کفار کو مجبوراً واپس آنا پڑا۔لیکن ابھی مصائب کا خاتمہ نہیں ہو گیا۔آپ کو پھر تکالیف پہنچائی گئیں اور آپ نے حضرت ابو بکر کو ساتھ لے کر مکہ سے ہجرت کی۔پھر کفار نے پیچھا کیا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت کی۔اس حالت میں کون کہہ سکتا تھا کہ جس کے چند ساتھیوں کی جمعیت بھی منتشر ہوگئی اور جس کو وطن سے بے وطن ہونا پڑا وہ کبھی غالب ہوگا۔جب آپ مدینہ میں پہنچے تو ان لوگوں نے وہاں بھی آرام نہ لینے دیا بار بار چڑھ کر گئے۔چنانچہ ایک دفعہ جنگ صلى الله احزاب میں دس ہزار کی جمعیت لے کر مدینہ پر چڑھ آئے اور آنحضرت ﷺ کو مدینہ کے اردگرد خندق کھودنا پڑی۔صحابہ کے ساتھ آپ بھی خندق کی کھدائی کے کام میں شریک تھے۔احادیث و تاریخ سے ثابت ہے کہ جب آپ نے کدال چلائی اور ایک پتھر پر لوہا پڑا اور اس میں سے شعلہ نکلا تو آپ نے بلند آواز سے کہا اللہ اکبر ! صحابہ نے بھی اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔دوسری دفعہ آپ نے کدال ماری اور پھر شعلہ نکلا۔پھر آپ نے بلند آواز سے کہا اللہ اکبر اور صحابہ نے بلند آواز سے اللہ اکبر کہا۔تیسری دفعہ پھر آپ نے کدال چلائی اور شعلہ نکلا آپ نے زور سے اللہ اکبر کہا اور صحابہؓ نے بھی کہا۔پھر آپ نے صحابہ سے پوچھا کہ تم نے کیوں اللہ اکبر کہا؟ صحابہ نے عرض کیا کہ چونکہ حضور نے اللہ اکبر کہا تھا اس لئے ہم نے بھی کہا ورنہ ہم نہیں جانتے کہ کیا بات ہے۔اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا