سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 88
سيرة النبي الله 88 88 رسول کریم ﷺ کا ایک حکم اور صحابہ کا فوری عمل مسیحی ممالک اور ترک شراب“ کے عنوان سے حضرت مصلح موعود کا ایک مضمون ریویو آف ریلیجنز فروری 1921 ء میں شائع ہوا۔اس میں شراب کی حرمت کے فرمان اور اس پر صحابہ کے ردعمل کا بیان کرتے ہوئے آپ تحریر فرماتے ہیں:۔اس شراب کے نشہ میں مخمور رہنے والی قوم اور شراب کو اپنا ایک ہی دل لگی کا ذریعہ سمجھنے والی جماعت میں ایک دن محمد رسول اللہ اللہ نکلتے ہیں اور مختصر اور صاف لفظوں میں خدا تعالیٰ کا یہ حکم سنا دیتے ہیں کہ شراب کے نقصانات چونکہ اس کے نفع سے زیادہ ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے آئندہ کے لئے اس کو حرام کر دیا ہے۔پس ہر ایک مسلمان کو چاہئے کہ اس سے پر ہیز کرے اور اس کا بنانا، بیچنا، پینا، پلانا ترک کر دے۔اور اس حکم کو سن کر وہ شراب کے شیدائی اپنا سر نیچا ڈال لیتے ہیں اور ایک کے منہ سے بھی اس کے خلاف آواز نہیں نکلتی۔ہر ایک ان میں سے شرح صدر سے اس حکم کو قبول کر لیتا ہے اور اس وقت کے بعد شراب کا گلاس کسی ایک فرد کے بھی منہ کے قریب نہیں جاتا۔صلى الله وہ لوگ مہلت نہیں مانگتے۔قلت و کثرت کا سوال نہیں اٹھاتے کیونکہ محمد رسول اللہ ہے نے ان کو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ جس چیز کی زیادتی حرام ہے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔ان میں لیکچروں کی ضرورت پیش نہیں آتی۔شراب کی برائیاں ذہن نشین کرنے کی حاجت نہیں ہوتی کیونکہ اسلام نے ان کے ذہنوں کو جلا دے دی تھی کہ حق بات کی طرف توجہ دلانا ان کے لئے کافی ہوتا تھا اور تعصب اور خود بینی سے ان کو اس قدر دور کر دیا تھا کہ اپنی غلطیاں خود بخود ان کی آنکھوں کے سامنے آ جاتی جلد 2