سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 89

سيرة النبي عمال 89 جلد 2 تھیں۔پس کسی لیکچرار کے لیکچر یا میجک لنترن (Magic Lantern) کی تصاویر کی ان کو ضرورت نہ تھی۔ان کے لئے صرف ایک اشارہ کافی تھا ، ایک لفظ بس تھا اور سب معاملہ آپ ہی آپ ان کے لئے واضح ہو گیا تھا۔ان کا اپنا نفس ان کے لئے لیکچرار تھا اور گوشہ ہائے دماغ میجک لنٹرن کے پردے جن پر سے وہ عقل کی آنکھوں کے ساتھ خوب اچھی طرح ان بدمستیوں کے نظاروں کو دیکھ سکتے تھے جو شراب نوشی کے نتیجہ میں ظاہر ہوتے ہیں وہ جھوٹی تصویروں کے محتاج نہ تھے سچا نقشہ ان کی رہنمائی کے لئے کافی تھا۔اسلام کے اس دوحرفہ حکم کا جو اثر شراب نوشی پر ہوا اس کی بہترین مثال ذیل کا واقعہ ہے جو مسلم ، مسند احمد بن حنبل اور ابن جریر کی روایات سے ماخوذ ہے۔حضرت انس جو رسول کریم ﷺ کے خدام میں سے تھے اور مدینہ کے رہنے والے تھے بیان فرماتے ہیں کہ ایک دن ابوطلحہ کے مکان پر مجلس شراب لگی ہوئی تھی ، بہت سے دوست جمع تھے اور میں شراب پلا رہا تھا۔دور پر دور چل رہا تھا اور نشہ کی آمد کی وجہ سے ان کے سر جھکنے لگے تھے کہ اتنے میں گلی میں کسی نے آواز دی کہ شراب حرام کی گئی ہے۔بعض لوگوں نے کہا کہ اٹھ کر دریافت کرو کہ یہ بات درست بھی ہے یا نہیں ؟ مگر بعض دوسروں نے کہا کہ نہیں پہلے شراب بہا دو پھر دیکھا جاوے گا اور مجھے حکم دیا کہ میں شراب کا برتن تو ڑ کر شراب بہا دوں۔چنانچہ میں نے ایک سوٹا مار کر وہ گھڑا جس میں شراب تھی توڑ دیا۔اور اس کے بعد وہ لوگ کبھی شراب کے نزدیک نہیں گئے۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا اثر لوگوں کے دلوں پر کیا تھا۔مجلس شراب میں جبکہ لوگ نشہ میں ہیں ایک شخص کے خبر دینے پر بلا تحقیق شراب کا بہا دینا کوئی معمولی بات نہیں اور اس کی اہمیت کو وہ اقوام زیادہ سمجھ سکتی ہیں جو شراب کی عادی ہیں۔کیونکہ جب دور سے دیکھنے والے ان کی اس حالت کو ایک عجیب حیرت