سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 82
سيرة النبي علي 82 جلد 1 اُس کے جلال سے اتنا بے خبر ہے کہ اسے اتنی بھی نہیں سمجھ کہ اُس بادشاہ سے انسان کو کیسا خائف رہنا چاہیے۔دنیاوی بادشاہوں کے مقربین کو ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی خدمت وخوشامد کے باوجود بھی اُن سے یہی عرض کرتے رہتے ہیں کہ اگر کچھ قصور ہو گیا ہو تو عفو فر ما ئیں۔بے شک بہت سے لوگ حتی المقدور نیکی کا خیال رکھتے ہیں مگر پھر بھی انسان سے خطا کا ہو جانا کچھ تعجب کی بات نہیں۔رسول کریم ﷺ کو دیکھو کیسی معرفت تھی ، کیسی احتیاط تھی ، کس طرح خدا تعالیٰ سے خائف رہتے تھے اور باوجود اس کے کہ تمام انسانوں سے زیادہ آپ کامل تھے اور ہر قسم کے گنا ہوں سے آپ پاک تھے ،خود اللہ تعالیٰ آپ کا محافظ و نگہبان تھا مگر باوجود اس تقدیس اور پاکیزگی کے یہ حال تھا کہ ہر وقت اللہ تعالیٰ سے خائف رہتے ، نیکی پر نیکی کرتے ، اعلیٰ سے اعلیٰ اعمال بجالاتے ، ہر وقت عبادت الہیہ میں مشغول رہتے مگر باوجود اس کے ڈرتے اور بہت ڈرتے۔اپنی طرف سے جس قدر ممکن ہے احتیاط کرتے مگر خدا تعالیٰ کے غنا کی طرف نظر فرماتے اور اُس کے جلال کو دیکھتے تو اس بارگاہ صمدیت میں اپنے سب اعمال سے دستبردار ہو جاتے اور استغفار کرتے اور جب موقع ہوتا تو بہ کرتے۔حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ وَاللَّهِ إِنِّي لاسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوْبُ إِلَيْهِ فِى الْيَوْم أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِيْنَ مَرَّةً 27 میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ خدا کی قسم! میں دن میں ستر دفعہ سے زیادہ خدا تعالیٰ کے حضور میں اپنی کمزوریوں سے عفو کی درخواست کرتا ہوں اور اس کی طرف جھک جاتا ہوں۔رسول کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے فضل سے گناہوں سے پاک تھے نہ صرف اس لیے کہ انبیاء کی جماعت مَعْصُوم عَنِ الْإِثْمِ وَالْجُرُمِ ہوتی ہے بلکہ اس لیے بھی کہ انبیاء میں سے بھی آپ سب کے سردار اور سب سے افضل تھے۔آپ کا اس طرح استغفار اور تو بہ کرنا بتاتا ہے کہ خشیت الہی آپ پر اس قدر غالب تھی کہ آپ اس کے