سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 81
سيرة النبي علي 81 جلد 1 اس حدیث سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خشیت کا پتہ چلتا ہے کہ آپ نے خدا تعالیٰ کی قدرت، بڑائی اور جلال کا کیسا صحیح اندازہ لگایا تھا اور کس طرح آپ کے دل پر حقیقت منکشف تھی کہ آپ ان اعمال کے ہوتے ہوئے بھی اُس بادشاہ کی غنا سے ایسے خائف تھے کہ فرماتے کہ خدا کا فضل ہی ہو تو نجات ہو اور نہ اس کے فضل کے بغیر نجات کیونکر ہو سکتی ہے۔علاوہ ازیں اس حدیث سے یہ مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے کہ اسلام نجات کو اعمال کا نتیجہ نہیں بلکہ خدا کے فضل کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔ہاں اعمالِ صالحہ خدا کے فضل کے جاذب ہوتے ہیں اس لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نجات خدا کے فضل سے ہے اس لیے تم نیکی اور تقویٰ سے کام لو۔معلوم ہوا کہ نیکی اور اعمالِ صالحہ فضل کے جاذب ہیں۔چنانچہ ایک دوسری حدیث میں اس کی اور تشریح ہو جاتی ہے۔حضرت ابو ہریرہ ہی اس حدیث کے بھی راوی ہیں اور اس میں انہوں نے پہلی حدیث سے اتنا زیادہ بیان فرمایا ہے وَاغْدُوْا وَرُوْحُوْا وَشَيْئًا مِنَ الدُّلْجَةِ وَالْقَصْدَ الْقَصْدَ تَبْلُغُوا 20 یعنی خدا کے فضل کے سوا نجات نہیں۔اسی لیے صبح کے وقت عبادت کرو اور شام کے وقت بھی اور کچھ رات کے وقت بھی اور خوب قصد کرو۔پوری طرح سے قصد کرو جنت میں پہنچ جاؤ گے۔اس حدیث سے صاف کھل جاتا ہے کہ اپنے اعمال کو فضل کا جاذب قرار دیا ہے۔استغفار کی کثرت لوگ گناہ کرتے ہیں اور پھر جرات کرتے ہیں اور خدا کا خوف ان کے دلوں میں پیدا نہیں ہوتا اور ایسے سنگدل ہو جاتے ہیں کہ کبھی ان کے دلوں میں یہ خیال پیدا نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے مورد نہ بن جائیں۔ایک دفعہ کا ذکر ہے میں نے ایک شخص سے ذکر کیا کہ تم تو بہ واستغفار کیا کرو اور نیکی میں ترقی کرو۔اس نے مجھے جواب دیا کہ کیا آپ مجھے گندا جانتے ہیں؟ کیا میں گناہ گار ہوں کہ آپ مجھے نیکی اور تقویٰ اور استغفار کے لیے کہتے ہیں؟ میں یہ بات سن کر حیران ہی ہو گیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں سے اتنا نا واقف ہے اور