سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 76

سيرة النبي علي 76 جلد 1 زاں نمط شد محو دلبر کز کمال اتحاد پیکر او شد سراسر صورت رب رحیم بوئے محبوب حقیقی میدمدزاں روئے پاک ذات حقانی صفاتش مظہر ذات قدیم میں ان تینوں اقسامِ اخلاق میں سے پہلے تو اُس کے اخلاق حسنہ میں سے وہ حصہ بیان کروں گا کہ جس سے آپ کا تعلق باللہ بدرجہ کمال ثابت ہوتا ہے۔پھر وہ حصہ جس سے آپ کے نفس کی پاکیزگی اور کمال ثابت ہوتا ہے اور آخر میں وہ حصہ جس سے مخلوق سے آپ کے تعلق کی کیفیت کھلتی ہے۔اخلاص باللہ۔خشیت الہی آپ کی خشیت الہی کا ثبوت ایک دعا سے خوب ملتا ہے۔آپ کی ایک دعا انسان جس وقت لوگوں سے جدا ہو کر دعا مانگتا ہے تو اس وقت اسے کسی بناوٹ کی ضرورت نہیں ہوتی اور اُس وقت کے خیالات اگر کسی طرح معلوم ہو جائیں تو وہ اس کے بچے خیالات ہوں گے کیونکہ وہ ان خیالات کا اظہار تخلیہ میں کرتا ہے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا مانگا کرتے تھے اَللّهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحَ الدَّجَّالِ وَأَعُوْذُ بكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ اللهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيْدُ مِنَ الْمَغْرَمِ؟ فَقَالَ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّتَ فَكَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ 18 اے میرے خدا! میں تیری ہی پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے اور میں پناہ مانگتا ہوں مسیح الدجال کے فتنہ سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنوں سے۔اے میرے رب! میں پناہ مانگتا ہوں گناہوں سے اور قرضہ سے۔اس دعا کو سن کر ایک شخص نے پوچھا کہ آپ قرضہ سے اس قدر کیوں پناہ مانگتے ہیں؟ فرمایا کہ جب انسان قرضدار ہو جاتا ہے تو بات کرتے وقت جھوٹ بول جاتا ہے اور