سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 75

سيرة النبي علي 75 جلد 1 اور اخلاق رذیلہ سے پیش آنا نہایت خطرناک اور باعث فساد ہے۔پس وہی انسان کامل ہو سکتا ہے کہ جو ان تینوں معاملات میں کامل ہو اور ان اصناف میں سے ایک صنف میں بھی کمزوری نہ دکھلائے۔اگر ان تینوں اقسام اخلاق کو مدنظر رکھ کر دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ اکثر انسان جو اخلاق میں کامل سمجھے جاتے ہیں بہت سی کمزوریاں رکھتے ہیں۔اور اگر ایک قسم کے اخلاق میں انہیں کمال حاصل ہے تو دوسری قسم میں انہیں کوئی دسترس نہیں۔ہاں اللہ تعالیٰ کے پیاروں اور پاک بندوں کا گروہ ہی نکلے گا کہ جو ان تینوں اقسام اخلاق میں کمال رکھتا ہے اور کسی خوبی کو اس نے ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔اور جب آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا مطالعہ غور سے کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ تمام صاحب کمال لوگوں کے سردار تھے اور باوجود اس کے کہ دنیا میں بہت سے صاحب کمال لوگ گزرے لیکن جس رنگ میں آپ رنگین تھے اس کے سامنے سب کے رنگ پھیکے پڑ جاتے ہیں اور جن خوبیوں کے آپ جامع تھے اُن کا عشر عشیر بھی کسی اور انسان میں نہیں پایا جاتا۔عجب نوریست در جانِ محمد عجب لعلیست در کان محمد ندانم کیے تھے در دو عالم که دارد شوکت و شان محمد ہم اس بات سے قطعاً منکر نہیں ہیں کہ آپ کے پہلے بھی اور آپ کے بعد بھی بڑے بڑے صاحب کمال پیدا ہوئے ہیں لیکن اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ اُن کی مثال اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال دیے اور سورج کی ہے اور سمندر اور دریا کی ہے کیونکہ وہ دلربا، یکتا ان تمام خوبیوں کا جامع تھا جو مختلف اوقات میں مختلف صاحب کمال لوگوں نے حاصل کئے۔آپ نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے احکام کی اطاعت میں ایسا محو کر دیا تھا کہ دنیا میں اس کے روشن مظہر ہو گئے تھے اور وہ تَخَلَّقُوا بِاَخْلَاقِ اللهِ کہنے والا انسان خود اس قول کا کامل نمونہ تھا۔