سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 70

سيرة النبي علي 70 جلد 1 رکھنے والو! اے فہیم دل رکھنے والو! خدا را ذرا اس جواب کا اُس جواب سے مقابلہ تو کرو جوحضرت موسی کو اُن کی امت نے دیا اور اس عمل سے بھی مقابلہ کر و جو حواریوں سے حضرت مسیح کے گرفتار ہونے کے وقت سرزد ہوا۔اور پھر بتاؤ کہ کیا اس قربانی ، اس فدائیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہمارا رسول ﷺ ایسے اخلاق رکھتا تھا کہ جن کی نظیر دنیاوی بادشاہوں میں تو خیر تلاش کرنی ہی فضول ہے دینی بادشاہوں یعنی نبیوں میں بھی نہیں مل سکتی۔اور اگر کوئی نبی ایسے اخلاق رکھتا تو ضرور اس کی امت بھی اس پر اس طرح فدا ہوتی جس طرح آپ پر۔مگر اس اخلاق کے مقابلہ کے ساتھ عربوں کی آزادی کو بھی ضرور مد نظر رکھنا چاہیے۔اس موقع پر میں ایک اور نظیر دینی بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ جس سے مردوں کے علاوہ عورتوں کے اخلاص کا نمونہ بھی ظاہر ہو جائے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جَاءَتْ هِنْدٌ بِنْتُ عُتْبَةَ فَقَالَتْ يَا رَسُوْلَ اللهِ مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ مِنْ أَهْلِ حِبَاءٍ أَحَبَّ إِلَى أَنْ يَذِلُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ ثُمَّ مَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ عَلَى ظهُرِ الْأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلَى أَنْ يَعِزُّوْا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ 14 یعنی ہند عتبہ آئی اور اس نے حضرت رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! روئے زمین پر کوئی خیمہ والا نہ تھا جس کی نسبت میں آپ سے زیادہ ذلت کی خواہشمند ہوں اور اب روئے زمین پر کوئی گھر والا نہیں جس کی نسبت میں آپ کے گھر والوں سے زیادہ عزت کی خواہشمند ہوں۔اس عورت کی طرف دیکھو یا تو وہ بغض تھا یا ایسی فریفتہ ہو گئی اور اس کی وجہ سوائے اُن اخلاق کریمہ اور اُس نیکی اور تقوی کے کیا تھی جو آپ میں پائے جاتے تھے۔اللہ تعالیٰ بھی اس کی یہی وجہ بیان فرماتا ہے۔چنانچہ قرآن شریف میں لکھا ہے فَيَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ ۚ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ 15 غرض کہ ان اخلاق حسنہ کا ایسا نیک اثر پڑا کہ ایک ایک کر کے تمام عرب قبیلے آپ کی خدمت میں آ حاضر