سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 67

سيرة النبي علي بات بتائیں گے۔67 جلد 1 بِأَنَّا نُوُرِدُ الرأيَاتِ بِيْضًا وَنُصْدِرُهُنَّ حُمُرًا قَدْ رَوِيْنَا وہ یہ کہ ہم سفید جھنڈوں کے ساتھ جنگ میں جاتے ہیں اور جب واپس آتے ہیں تو وہ جھنڈے خون سے سرخ وسیراب ہوتے ہیں۔وَأَيَّامٍ لَّنَا غُرٍ طِوَالٍ عَصَيْنَا الْمَلِكَ فِيهَا أَنْ نَدِينَا اور بہت سے ہمارے مشہور اور دراز معر کے ہیں کہ ہم نے ان میں بادشاہ کی نافرمانی کی تا اس کے مطیع نہ ہو جائیں۔وَرِثْنَا الْمَجْدَ قَدْ عَلِمَتْ مَعَدٌ نُطَاعِنُ دُوْنَهُ حَتَّى يَبِيْنَا عرب جانتے ہیں کہ ہم بزرگی کے وارث ہیں اپنے شرف کے لیے لڑتے ہیں الله تا کہ وہ ظاہر ہو جائے۔أَلَا لَا يَعْلَمُ الْأَقْوَامُ أَنَّا تَضَعُضَعُنَا وَأَنَّا قَدْ وَنِيْنَا خبردار! تو ہمیں یہ نہ سمجھ کہ ہم کمزور اور سست و کاہل ہو گئے ہیں۔الا لَا يَجْهَلَنْ أَحَدٌ عَلَيْنَا فَنَجْهَلَ فَوقَ جَهْلِ الْجَاهِلِينَا خبردار ! کوئی ہم پر جہالت سے ظلم نہ کرے ورنہ ہم ظالموں کے ظلم کا سخت بدلہ دیں گے۔جائیں۔بِأَيِّ مَشِيْئَةٍ عَمُرَو بْنَ هِنْدِ نَكُونُ لِقَيْلِكُمْ فِيْنَا قَطِيْنَا کس وجہ سے عمرو بن ہند تو چاہتا ہے کہ ہم تیرے گورنر کے فرمانبردار ہو تُهَدِّدُنَا وَتُوُعِدُنَا رُوَيْدًا مَتَى كُنَّا لِأُمِّكَ مَقْتَوِيْنَا تو ہمیں ڈراتا ہے اور دھمکاتا ہے جانے بھی دے۔ہم تیری ماں کے خادم کب ہوئے تھے۔فَإِنَّ قَنَاتَنَا يَا عَمُرُو أَعْيَتُ عَلَى الْأَعْدَاءِ قَبْلَكَ اَنْ تَلِيْنَا 11