سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 59

سيرة النبي علي 59 جلد 1 ور نہ آس پاس کے غرباء میں تقسیم کر دیتے۔آپ کی خوراک ایسی سادہ تھی کہ اکثر کھجور اور پانی پر گزارہ کرتے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ آپ کے انصار ہمسائے دودھ تحفہ بھیجتے تو اکثر ہم لوگوں کو پلا دیتے۔لیکن باوجود اس قدر سادگی کے طیبات سے پر ہیز نہ تھا اور جھوٹے صوفیوں کی طرح آپ طیبات کو ترک نہ کر بیٹھے تھے بلکہ آپ عمدہ سے عمدہ غذائیں جیسے مرغ وغیرہ بھی کھا لیتے تھے۔پانی پیتے وقت آپ کی یہ عادت تھی کہ تین دفعہ بیچ میں سانس لیتے اور یکدم پانی نہ چڑھا جاتے۔نہ صرف اس میں آپ کا وقار پایا جاتا ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ صحت کا بھی بہت خیال رکھتے تھے۔گوشت کو آپ پسند فرماتے تھے لیکن اس کا زیادہ استعمال نہ تھا کیونکہ سادہ زندگی کی وجہ سے آپ کھجور اور پانی پر ہی کفایت کر لیتے۔ایک صحابی یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ کے سامنے کدو پکا کر رکھا گیا تو آپ نے اسے بہت پسند فرمایا۔ان تمام کھانوں کے ساتھ آپ اصل مالک کو نہ بھولتے بلکہ خدا کا نام لے کر کھانا شروع کرتے اور دائیں ہاتھ سے کھاتے اور اپنے آگے سے کھاتے اور جب کھا چکتے تو فرماتے کہ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدَا كَثِيْرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مَكْفِي وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنِّى عَنْهُ رَبَّنَاءِ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔بہت بہت تعریفیں ، پاک تعریفیں ، برکت والی تعریفیں۔ایسی تعریفیں کہ جو ایک دفعہ پر بس کرنے والی نہ ہوں۔جو چھوڑی نہ جاویں جن کی ہمیشہ عادت رہے۔اے ہمارے رب ! یعنی مولا تیرا شکر تو میں بہت بہت کرتا ہوں پر تو بھی مجھ پر رحم کر اور آج کے انعام پر ہی بس نہ ہو جائے بلکہ تو ہمیشہ مجھ پر انعام کرتا رہ اور میں ہمیشہ تیرا شکر کرتا رہوں۔اس دعا پر غور کرو اور دیکھو کہ کھانا کھاتے وقت آپ کے دل میں کیا جوش موجزن ہوں گے اور کیا شکر کا دریا پھوٹ کر بہہ رہا ہو گا۔پھر اس پر بھی غور کرو که لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ یعنی تمہارے لیے رسول کریم ﷺ ایک بہتر سے بہتر نمونہ ہے جس کی تمہیں پیروی کرنی چاہیے۔