سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 46
سيرة النبي علي 46 جلد 1 کا جواب دینے سے پہلے میں اس قدر کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جو عیوب نامہ نگار نے ہماری طرف منسوب کئے ہیں وہ تو ابھی زیر بحث ہیں اور ہم ان کے ماننے کے لئے تیار نہیں لیکن کم سے کم ہمیں ان کے مضمون کے پڑھنے سے اتنی خوشی ضرور ہوئی ہے کہ آخر کا ر کچھ نہ کچھ لوگ مسیحیوں میں ایسے پیدا ہو گئے ہیں جو گو دلیری کے ساتھ نہیں لیکن د بے منہ سے پادریوں کی ان تلبیسانہ کارروائیوں کے اقرار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ جن سے وہ مشرقی ممالک میں تبلیغ مسیحیت میں مدد لیتے ہیں۔اور اس کے لئے میں مسٹر ڈبلیو اے شیڈ کا خاص طور پر شکر یہ ادا کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آئندہ وہ بغیر مسلمانوں پر الزام دیئے اس قسم کے اقرار کرنے کی اخلاقی جرات اپنے اندر پیدا کریں گے۔اس کے بعد میں اصل مضمون کی طرف متوجہ ہوتا ہوں کہ نامہ نگار مسلم ورلڈ نے صلى الله رسول اللہ ﷺ پر یہ الزامات لگا کر اس بات کا کافی ثبوت دے دیا ہے کہ وہ کن اخلاق کا آدمی ہے۔ایک ایسے انسان پر جو تمیں کروڑ سے زائد انسانوں کا پیشوا اور سردار ہے جو اس کے نام پر جان دینے کے لئے تیار ہیں ایسی دریدہ دلیری ہی سے الزام لگانا اور الزام بھی وہ جو نہایت رذیل اخلاق کی قسم سے ہوں اور پھر ان کا کوئی ثبوت نہ دینا یہ مسٹرشیڈ ہی کا کام تھا اور اب اگر مسلمان خود انہیں ان کی آنکھ کے شہتیر کی طرف متوجہ کریں تو انہیں کوئی شکایت کی وجہ نہیں ہونی چاہئے۔ان بے ثبوت دعاوی میں سے پہلا دعویٰ یہ ہے کہ رسول اللہ کے نعوذ باللہ ایک طرف تو مذہبی جوش رکھتے تھے اور دوسری طرف ان کا دل سیاسی امنگوں سے پُر تھا۔اور یہ دونوں متضاد جوش ان کے اندر کام کررہے تھے۔فتوحات اور حکومت نبوت کے منافی نہیں اگر نامہ نگار کی سیاسی امنگوں سے یہ مراد ہے کہ آپ نے مختلف شہروں اور علاقوں کو فتح کیا اور تمام عرب کی اقوام کو اپنی اطاعت ہلے سہو کتابت معلوم ہوتا ہے غالباً دیدہ دلیری‘ مراد ہے۔(مرتب)