سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 42
سيرة النبي علي 42 جلد 1 کوئی کہتا ہے گدی بن جائے ، کسی کو حکومت کا شوق ہوتا ہے، کسی کو دولت جمع کرنے کا خیال۔غرض مختلف وجوہات ہیں جن سے لوگ دین اختیار کرتے ہوں گے۔کوئی عیسائی بنتا ہے تو اسے یہ بھی خیال آتا ہوگا کہ میرے ضلع کے ڈپٹی یا میرے صوبہ کے لیفٹیننٹ گورنر یا میرے ملک کے وائسرائے خوش ہو جائیں گے۔مگر محمد رسول الله ل ل ا ل ل ہو ہی تو دیتا ہے جس سے خدا کا قرب ، خدا کی خوشنودی حاصل ہو۔وہ اپنے پیرؤوں کو تعلیم دیتے وقت ارشاد فرماتا ہے کہ شاید تمہارے دل میں کوئی وسوسہ آ جائے اس لئے اَعُوذُ اور بسم اللہ پڑھ لینی چاہیے۔جن کو محض اپنا مذہب پھیلانے کا شوق ہوتا ہے وہ تو کہتے ہیں کہ ہمارے مذہب میں داخل ہو خواہ کسی طرح۔مگر یہاں ارشاد ہے کہ یہ دروازہ عشق الہی کا ہے اس میں شیطانی ملونی سے نہ آؤ بلکہ شیطان پر لعنت بھیج کر اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگ کر۔پھر یہ اَعُوذُ نہ صرف ابتدا میں ہے بلکہ انتہا میں بھی یہی ارشاد ہوتا ہے کہ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ 6 پڑھ لو۔جس سے یہ مراد ہے کہ الہی میں نے تیری کتاب کو پڑھا ہے۔ممکن ہے کہ کئی قسم کے قصور سرزد ہوئے ہوں۔اپنی عظمت کا خیال آگیا ہو کہ میں صوفی بن جاؤں، لوگ مجھے بزرگ کہیں۔میرے پاؤں چومیں ، پس اپنے رب کی پناہ میں آکر عرض کرتا ہوں کہ محض اسی کی محبت ہو جس کی خاطر میں لوگوں کو اس کی تلقین کروں۔قرآن مجید کی تعلیم کا خلاصہ یوں تو سارا قرآن تقوی کی تعلیم سے لبریز ہے مگر جو آیت میں نے آپ لوگوں کے سامنے پڑھ کر سنائی ہے اس میں بھی ایک خاص رنگ میں تقویٰ کی ہی تعلیم دی گئی ہے۔جس سے اس بات کا ثبوت مل سکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی زندگی کیسی پاک اور تقویٰ سے لبریز تھی۔بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ یہ پاک تعلیم اسی کو مل سکتی تھی جو خود تقولی سے معمور ہو۔اس لئے اس کتاب سے رسول اللہ ﷺ کی قلبی کیفیت ہم معلوم کر سکتے ہیں۔کیا ہی خوش قسمت تھے وہ لوگ جنہوں نے یہ پاک کلام خود رسول اکرم ﷺ کے منہ سے سنا۔دیکھو دہلی