سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 38
سيرة النبي علي 38 جلد 1 صلى رسول کریم ﷺ کی پاک زندگی کا معیار - قرآن حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے جلسہ سالانہ قادیان 1911ء کے موقع پر جو تقریر فرمائی وہ مدارج تقوی“ کے نام سے 1919 ء میں شائع ہوئی۔اس لیکچر کی تمہید میں آپ نے رسول کریم ﷺ کی سیرت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:۔درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے 66 وو " حضرت مسیح ناصری فرماتے ہیں ” درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے 1۔یہ ایسا پکا، سچا اور ایسا پاک کلمہ ہے کہ اس میں زمانے کے تغیرات ،ملکوں، حکومتوں ، علموں اور سائنسوں کے تغیرات نے ذرا بھی تبدیلی نہیں پیدا کی۔1900 برس گزر گئے لیکن اب بھی ہم دیکھتے ہیں کہ یہ فقرہ ” درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے‘ بالکل صحیح ہے۔جب میں رسول کریم ﷺ کی صداقت کو اسی جملہ میں مرکوز دیکھتا ہوں تو یہ فقرہ مجھے بڑا مزہ دیتا ہے۔واقعی درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔دیکھو آم کا درخت ہے۔اس میں اگر ایسے پھل نہیں لگتے جس سے لوگ نفع اٹھائیں تو وہ آم کس کام کا۔اگر وہ شیریں پھل دیتا ہے تو آم ہے ورنہ ایک لکڑی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔اسی طرح اگر انگور کی بیل میں انگور عمدہ لگتے ہیں تو وہ انگور ہے ور نہ محض ایک گھاس ہے۔صلى رسول کریم ﷺ کی پاک زندگی کا معیار ہمارے رسول اللہ ﷺ کی ذات علیہ پر بہت سے اعتراض کئے جاتے