سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 490
سيرة النبي علي 490 جلد 1 کریں۔ہاں دین کے بارے میں اگر ان پر کوئی ظلم کریں تو مدد دینی چاہئے لیکن اگر ان کی اس قوم سے لڑائی ہو جس سے تمہارا معاہدہ ہو تو تم کو ان کی مدد نہیں کرنی چاہئے۔اب دیکھو ایک قوم مسلمان ہے، دین کی جنگ ہے مگر اسلام کہتا ہے کہ تم کو معاہدہ کی پابندی کرنی چاہئے اور طرفداری کے خیال سے مسلمانوں کی مدد نہیں کرنی چاہئے۔اگر یہی رنگ تمام مذاہب والے اختیار کر لیں تو آپ لوگ دیکھ سکتے ہیں کہ کس عمدگی کے ساتھ اتفاق پیدا ہو سکتا ہے۔پھر اتفاق و اتحاد کا موجب مذہبی رواداری ہوتی ہے مگر ہندو مسلمانوں میں یہ بالکل مفقود ہے۔ہندوؤں کا دسہرہ ہو تو مسلمان لڑنے جھگڑنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور مسلمانوں کا محرم ہو تو ہند و فساد پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔حالانکہ یہ ایسی باتیں ہیں کہ جن پر ایک دوسرے کو معترض ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔دسہرہ کو خواہ مسلمان کیسا ہی سمجھیں لیکن اس پر ناراض ہونے کی ان کے لئے کوئی وجہ نہیں ہے۔اسی طرح ہندوؤں کے نزدیک محرم کیسا ہی ہو اُن کو چڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔اپنے اپنے طور پر جو کسی کی مرضی ہے کرے۔اس میں دخل دینا بالکل فضول ہے۔کیونکہ دسہرہ کی وجہ سے مسلمانوں کے مذہبی خیالات کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا اور محرم کی وجہ سے ہندوؤں کے اعتقادات کو کوئی صدمہ نہیں پہنچتا۔لیکن جب تک مذہب کے معاملہ میں رواداری نہ پیدا ہو اُس وقت تک اس قسم کے فسادات دور نہیں ہو سکتے۔مسلمانوں کو اس کا خاص حکم دیا گیا ہے۔چنانچہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی مسجدوں میں آکر عبادت کرے تو اسے کرنے دو۔پھر اس کے متعلق آپ کا عمل موجود ہے۔نجران سے عیسائیوں کا ایک وفد آپ کے پاس آیا۔اس نے آپ سے مسجد میں باتیں کیں اور جب ان کی عبادت کا وقت آیا تو وہ مسجد میں ہی عبادت کرنے لگے۔اس پر بعض لوگوں نے ان کو روکنا چاہا لیکن رسول کریم ﷺ نے فرمایا روکو نہیں کرنے دو۔چنانچہ انہوں نے مسجد میں ہی اپنے طریق پر عبادت کی 25۔اب کسی