سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 489
سيرة النبي علي 489 جلد 1 رسول کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ کیا یہ عصبیت میں داخل ہے کہ ہر حالت میں اپنی قوم کی پاسداری کی جائے ؟ آپ نے فرمایا نہیں۔قومی پاسداری یہ ہے کہ اگر کوئی اپنی قوم کے آدمی پر ظلم کرتا ہو تو اس آدمی کی مدد کی جائے یہ نہیں کہ وہ ظالم ہو تو بھی اس کی مدد کی جائے۔کیونکہ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ ظلم کرنے پر اکساتا ہے اور اس طرح فساد اور فتنہ ڈلواتا ہے۔اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ تم کو مدد کرنی چاہئے خواہ کوئی مالم ہو یا مظلوم۔پوچھا گیا مظلوم کی مدد یہ ہو گی کہ اسے ظلم سے بچایا جائے۔لیکن ظالم کی کیا مدد کی جائے ؟ آپ نے فرمایا ظالم کو ظلم سے روکنا اس کی مدد ہے 23۔یہ وہ سچی اور حقیقی ہمدردی ہے جس کے ذریعہ صلح اور اتحاد قائم ہوسکتا ہے۔اگر سارے ہندو اور مسلمان اتفاق کر کے عہد کر لیں کہ جب کوئی ایسا جھگڑا پیدا ہو گا جس میں ثابت ہو جائے کہ ہمارے ہم مذہب لوگوں کی زیادتی ہے اور انہوں نے ظلم سے کام لیا ہے تو ہم اس کے خلاف ہوں گے اور دوسروں کی ہمدردی کریں گے۔اگر اس طرح کیا جائے تو بہت جلدی موجودہ نقشہ بدل سکتا ہے۔اب تو ایسا ہوتا ہے کہ جب فساد ہوتا ہے تو ہندو لیڈر ہندوؤں کی تائید میں کھڑے ہو جاتے اور باتوں سے مسلمانوں کو ٹالنا چاہتے ہیں۔اور مسلمانوں کی طرف سے زیادتی ہو تو مسلمان لیڈر اپنے ہی لوگوں کی تائید کرتے ہیں۔اس طرح کیونکر اتفاق اور اتحاد ہوسکتا ہے۔ہاں اگر ہند و مسلمان اس بات کو چھوڑ کر اس فریق سے ہمدردی کریں جس پر زیادتی اور ظلم کیا گیا ہو تو آپس کے تعلقات بہت اچھے ہو سکتے ہیں۔دیکھو اسلام نے کس قدر احتیاط سکھائی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِينَ آمَنُوْا وَلَمْ يُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَلَايَتِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ حَتَّى يُهَاجِرُوا وَ إِنِ اسْتَنْصَرُ وَكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ إِلَّا عَلَى قَوْمٍ بَيْنَكُمُ وَبَيْنَهُمْ مِّيْثَاقُ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِير 24 یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے مگر انہوں نے ہجرت نہ کی ان کی مدد کرنا تمہارا فرض نہیں یہاں تک کہ وہ ہجرت