سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 488

سيرة النبي علي 488 جلد 1 دشمنی اور عداوت کی وجہ سے کسی قوم پر ظلم کرو اور اپنے آدمیوں کی رعایت کرو۔تقویٰ کے لئے یہی ضروری ہے۔اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔بے شک اللہ جانتا ہے جو کچھ کہ تم کرتے ہو۔اس کے متعلق رسول کریم ﷺ کی زندگی کے واقعات نہایت صاف طور پر پائے جاتے ہیں۔تاریخ میں آتا ہے کہ ایک مسلمان نے کسی کی زرہ پچرا کر ایک یہودی کے گھر رکھ دی۔جب جھگڑا ہوا تو کہا گیا کہ یہودی چور ہے جس کے گھر سے زرہ نکلی ہے۔اس پر بعض مسلمانوں نے اس مسلمان کی بغیر تحقیقات کے تائید کرنی شروع کر دی۔مگر رسول کریم ﷺ نے جب تحقیقات کی تو معلوم ہوا کہ مسلمان ہی مجرم ہے۔اس پر رسول کریم علیہ نے ان مسلمانوں کی تنبیہ کی جنہوں نے مسلمان کی تائید کی تھی اور خدا تعالیٰ نے ان کو ڈانٹا کہ جب تمہیں معلوم ہو گیا تھا کہ مسلمان حق پر نہیں تو خواہ وہ تمہاری قوم کا ہی تھا تمہیں اس کی مدد نہیں کرنی چاہئے تھی۔جو حق پر ہو اس کی مدد کرنی چاہئے 22۔صلى الله یہ حالت اگر اب ہندوستان میں پیدا ہو جائے تو بہت سے جھگڑے اور فساد رک سکتے ہیں۔بعض اوقات مسلمانوں سے ہندوؤں کو اور ہندوؤں سے مسلمانوں کو کوئی دکھ اور تکلیف پہنچتی ہے تو ایسے موقع پر بجائے اس کے کہ اپنی اپنی قوم کی خواہ اُسی کا قصور ہو مدد کی جائے اگر دوسری قوم کے لوگ اس قوم کی مدد کریں یا اس سے ہمددری کا اظہار کریں جسے تکلیف پہنچی ہو تو آپس کے تعلقات بہت اچھے ہو سکتے ہیں۔لیکن ایسا نہیں کیا جاتا اور اپنی ہی قوم کے لوگوں کی پاسداری کی جاتی ہے۔پچھلے ہی دنوں ہندو مسلمانوں کے جو فساد ہوئے ان میں جن کی زیادتی تھی ان کے لیڈر کھڑے ہو جاتے اور اپنی قوم کے مفسد لوگوں سے ہمدردی نہ کرتے بلکہ جن پر ظلم ہوا تھا ان کی دلجوئی کرتے تو اس قدر بات نہ بڑھتی۔پس اگر اس طریق کو اختیار کیا جائے جو اسلام نے بتایا ہے تو کبھی آپس میں جھگڑا اور فساد نہ ہو اور اگر ہو تو بہت جلدی رک جائے۔