سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 487
سيرة النبي علي 487 جلد 1 کاٹ کر ان کی بے عزتی کی اور ”مرے کو مارے شاہ مدار کا ثبوت دیا۔یہ ان کی ایسی سخت شرارت تھی جس سے مسلمانوں کو اور خود رسول کریم ﷺ کو بہت تکلیف پہنچی مگر آپ نے مسلمانوں کو تاکید فرما دی کہ تم ایسا نہ کرنا۔اسی طرح آپ جب فوجوں کو بھیجا کرتے تو حکم دیتے کہ لڑائی کے وقت اگر دشمن کسی قسم کی شرارت سے کام لے تو تمہارے لئے ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔یہ ایک نہایت ضروری اور اہم حکم ہے کیونکہ شرارت کے مقابلہ میں اگر شرارت سے ہی کام لیا جائے تو فتنہ اور فساد بہت بڑھ جاتا ہے اور آپس میں اتفاق اور اتحاد کی صورت پیدا ہی نہیں ہو سکتی۔لیکن اگر ایک طرف سے شرارت ہو اور دوسری طرف سے عفو کیا جائے تو شرارت کرنے والا خود نادم اور شرمندہ ہو کر آئندہ اس سے باز آ جاتا ہے۔پھر جب لڑائی شروع ہو جائے اور دشمن صلح کی درخواست کرے تو اسلام ایسے موقع پر حکم دیتا ہے کہ وَاِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ 20 اگر دشمن صلح پر آمادگی ظاہر کرے تو تمہیں بھی صلح کر لینی چاہئے۔اور اللہ پر توکل رکھنا چاہئے وہ سننے اور جاننے والا ہے۔اب اگر دو قوموں میں کوئی تنازع پیدا ہو جائے اور ایک قوم صلح کے لئے آگے بڑھے تو دوسری کو بھی آگے بڑھنا چاہئے۔اس طرح بہت جلدی امن اور صلح ہو سکتی ہے۔خواہ وہ پھر بہت سے جھگڑے پیدا ہونے کی یہ وجہ ہوتی ہے کہ اپنے اپنے فریق کے لوگوں کی ہ وہ غلطی پر ہوں طرفداری کی جاتی ہے۔اور ہندوستان میں یہی فتنہ کا بہت بڑا موجب ہے۔اسلام اس بات کو ہرگز جائز نہیں رکھتا۔چنانچہ حکم ہے یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُوْنُوْا قَوْمِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اِعْدِلُوا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ 21 یعنی اے مسلمانو! ہمیشہ سچ پر قائم رہو اور انصاف کرو۔کبھی ایسا نہ ہو کہ