سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 485
سيرة النبي علي 485 جلد 1 مطلب یہ ہے کہ اے محمد تو مر جائے۔ایک دفعہ کچھ لوگوں نے آ کر جب آپ سے اس طرح کہا تو آپ کی ایک بی بی سن رہی تھیں۔انہوں نے جواب میں کہا عَلَيْكُمُ سَامٌ وَلَعْنَةُ اللهِ تم پر موت ہو اور اللہ کی لعنت۔یہ سن کر رسول کریم ﷺ نے ان کو فرمایا اے عائشہ ! تمہیں یہ نہیں کہنا چاہئے تھا اور اگر کہا ہی تھا تو لَعْنَةُ اللَّهِ کیوں کہا عَلَيْكُمُ کہہ دینا کافی تھا 17۔تو رسول کریم ﷺ نے یہی تعلیم دی ہے کہ صبر اور برداشت کی طاقت پیدا کرنا چاہئے اور ذرا ذراسی بات پر لڑنے مرنے کو تیار نہیں ہو جانا چاہئے۔بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ قوموں کا آپس میں اتفاق اور اتحاد ہوتا ہے لیکن حالات ایسے پیدا ہو جاتے ہیں کہ ایک قوم سمجھتی ہے کہ جب تک لڑائی نہ کی جائے گی میں قائم نہیں رہ سکوں گی۔یا اگر آپس میں لڑائی شروع ہونے کا ڈر ہو تو اور کسی سے لڑائی شروع کر دی جاتی ہے۔سیاست دان لوگ اس بات کو خوب اچھی طرح سمجھتے ہیں لیکن اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا بلکہ یہ کہتا ہے کہ وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ 18 تم کو انہی لوگوں لڑنے کی اجازت ہے جو تم سے لڑتے ہیں اور تمہارے دین کو مٹانا چاہتے ہیں۔اور جو تم سے لڑنا چھوڑ دیں اگر ان سے لڑو گے تو یہ زیادتی ہوگی اور اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔اس کے متعلق رسول کریم ﷺ کاعمل دیکھئے۔آپ جب تک مکہ میں رہے کبھی کسی سے نہیں لڑے اور جب مخالفین نے سخت تنگ کیا تو مکہ چھوڑ کر مدینہ آ گئے۔یہاں بھی آپ نے پیل نہیں کی۔ہاں اگر سخت مجبوری ہو گئی تو وہ الگ بات ہے۔مگر آپ ابتدا کرنا نہیں چاہتے تھے۔اب سوال ہوتا ہے کہ اگر لڑنے کی ضرورت ہو اور سخت مجبوری در پیش ہو جائے تو کیا جائے ؟ عام طور پر یہ کیا جاتا ہے کہ اگر کچھ عرصہ لڑائی سے پہلو تہی کی جاتی ہے تو جب لڑائی شروع ہوتی ہے اُس وقت یہی کہا جاتا ہے کہ اب دشمن کو پیس ہی ڈالنا