سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 484 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 484

سيرة النبي علي 484 جلد 1 صلى آیا اور آ کر رسول کریم ﷺ کو کہا کہ آپ نے تو مجھے معاہدہ کے مطابق بھیج دیا تھا۔اگر وہ مجھے نہیں لے جا سکے تو اس میں آپ پر کوئی حرف نہیں آتا۔آپ نے کہا تو فساد ڈلوانا چاہتا ہے 15۔ان واقعات سے معلوم ہوسکتا ہے کہ اسلام نے معاہدات کی کیا قدر اور وقعت رکھی ہے۔اگر سب لوگ ان کی ایسی ہی قدر کریں تو نہایت مضبوط صلح ہو سکتی ہے۔لیکن اگر دلوں میں یہ خیال ہو کہ جب موقع ملے گا نقصان پہنچا لیں گے تو صلح نہیں ہوسکتی۔پھر اور بات صلح اور اتفاق کے لئے یہ ضروری ہے کہ اگر دو فریقوں میں سے کسی ایک سے کوئی غلطی ہو جائے تو ایک حد تک اس کو برداشت کر لینا چاہئے۔اس کے متعلق قف قرآن کریم کی یہ آیت پیش کرتا ہوں کہ لَتُبُلوُنَّ فِى اَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ * وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ اشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا وَاِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ 16 خدا تعالى مسلمانوں کو فرماتا ہے کہ اے مسلمانو ! تمہارے مالوں اور جانوں کے ذریعہ تمہاری آزمائشیں ہوں گی۔یہودی، عیسائی اور مشرک تم کو دکھ دیں گے۔اگر تم صبر کرو گے، اللہ کا تقویٰ کرو گے اور تکلیفوں کو برداشت کرو گے تو یہ بہت بڑی بات ہو گی۔عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ کئی لوگ دوسروں کے ساتھ نیک اور اچھا سلوک تو کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں لیکن جب ان پر کوئی زیادتی کرے اور تکلیف دے تو اس کو برداشت نہیں کر سکتے۔مگر اسلام نہ صرف یہ حکم دیتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ نیکی اور بھلائی کا سلوک کرو، کسی کو دکھ نہ دو بلکہ یہ بھی کہتا ہے کہ اگر کسی کی طرف سے غلطی کی وجہ سے زیادتی بھی ہو جائے تو اس کو برداشت کرو یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ذرا ذرا سی بات پر لڑنے جھگڑنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔اس کے متعلق رسول کریم ﷺ کا عمل دیکھئے آپ کا یہود سے معاہدہ تھا مگر وہ آ کر آپ کو السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کی بجائے اَلسَّامُ عَلَيْكَ طعنہ کے طور پر کہتے جس کا