سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 483 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 483

سيرة النبي علي 483 جلد 1 یعنی اگر تم کسی قوم سے معاہدہ کرو اور تمہیں شک ہو کہ وہ اندر ہی اندراس کی خلاف ورزی کر رہی ہے تو یہ نہیں ہونا چاہئے کہ تم چپ چاپ ان کے خلاف لڑنے کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔بلکہ ان کی خیانت کو ان پر ظاہر کرو اور کہو کہ یہ بات ہے جس کی وجہ سے تم سے صلى الله جنگ کی جاتی ہے۔اب رسول کریم ﷺ کے متعلق دیکھتے ہیں۔آپ نے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی ایسی قوم کے آدمی کو قتل کرے جس سے معاہدہ ہوا سے خدا جنت میں داخل نہیں کرے گا۔اور نہ صرف داخل ہی نہیں کرے گا بلکہ وہ جنت کی بو بھی نہیں سونگھے گا اور جنت کی بو ایسی ہے کہ چالیس سال کے عرصہ کی مسافت تک پہنچ جاتی ہے 14۔یہ الگ مضمون ہے کہ چالیس سال کی مسافت سے کیا مراد ہے۔یہ مذہبی استعارے ہوتے ہیں اس کے متعلق اگر میں بیان کرنا شروع کروں تو ایک ایسا مضمون شروع ہو جائے گا جو اس موضوع سے تعلق نہیں رکھتا جس پر اس وقت میں بیان کر رہا ہوں مگر اس سے اتنا تو معلوم ہو گیا کہ رسول کریم علیہ نے معاہدہ کی خلاف ورزی کرنے والے کو کس طرح زجر کی ہے۔الله پھر صلح حدیبیہ جو ہوئی تھی اس میں ایک یہ شرطا قرار پائی تھی کہ اگر مکہ کا کوئی شخص رسول کریم ﷺ کے پاس آ جائے تو آپ اسے واپس کر دیں اور اگر آپ کے پاس سے کوئی مکہ چلا جائے تو واپس نہ کیا جائے۔یہ معاہدہ ہو چکنے کے بعد مکہ سے ایک مسلمان بھاگ کر رسول کریم ﷺ کے پاس آ گیا۔اس کے لینے کے لئے مکہ کے لوگ آئے اور آ کر کہا کہ معاہدہ کے مطابق اسے واپس کر دو۔اس شخص نے رسول کریم علیہ کو بتایا کہ مجھے یہ یہ دکھ دیئے گئے ہیں اور بہت ستایا گیا ہے اس لئے بھاگ کر آیا ہوں۔کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ یہ لوگ مجھے لے جا کر پھر اسی طرح دیکھ دیں؟ آپ نے فرمایا چونکہ معاہدہ ہو چکا ہے اس لئے خواہ کچھ ہو جانا پڑے گا۔چنانچہ وہ چلا گیا۔لیکن راستہ میں ان آدمیوں میں سے جو اسے لے جا رہے تھے ایک کو مار کر پھر بھاگ