سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 482 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 482

سيرة النبي علي 482 جلد 1 حفاظت کریں گے اور اگر کوئی دشمن حملہ کرے گا تو مل کر اس کا مقابلہ کریں گے۔ہر فریق اپنا خرچ آپ برداشت کرے گا۔یہود کا دین یہودیوں کے ساتھ اور مسلمانوں کا دین مسلمانوں کے ساتھ ہو گا۔جو شخص آپس میں کسی پر ظلم کرے گا اس کا گناہ اس کی جان پر ہو گا۔جو مسلمان اس معاہدہ سے نکلے گا وہ رسول کے حکم سے نکل جائے گا۔پس ہر ایک کا فرض ہے کہ اس کی ذمہ داریوں کا پابند ہو 11۔صلى الله اس معاہدہ سے معلوم ہو سکتا ہے کہ رسول کریم عہ نے اس تعلیم پر خود عمل کیا۔اور یہودی جو سب سے زیادہ اسلام کے ساتھ دشمنی اور عداوت رکھتے تھے ان کے ساتھ ایک کام کو مل کر کرنے کے لئے معاہدہ کیا اور اس معاہدہ کو اُس وقت تک نہیں تو ڑا جب تک کہ انہوں نے خود نہیں توڑ دیا۔پس آپس میں اتحاد اور اتفاق قائم کرنے کا یہ بھی ایک طریق ہے کہ آپس میں معاہدہ کر لیا جائے اور پھر اس معاہدہ کی پابندی اختیار کی جائے۔اس زمانہ میں یہ بھی ایک بہت بڑا نقص پایا جاتا ہے کہ جو لوگ آپس میں معاہدے کرتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی پابندی کرنا ضروری نہیں ہے۔جب تک ضرورت ہو اُس وقت تک معاہدہ ہے جب ضرورت نہ رہی معاہدہ بھی نہ رہا۔جیسا کہ جرمنی نے کہا تھا کہ معاہدہ ایک کاغذ کا پُرزہ ہوتا ہے۔اور روس کے بادشاہ کا قول مشہور ہے کہ معاہدے توڑنے کے لئے ہی ہوتے ہیں۔مگر اسلام معاہدہ کی بڑی سختی کے ساتھ پابندی کرنے کا حکم دیتا ہے۔چنانچہ آتا ہے إِلَّا الَّذِيْنَ عُهَدْتُم مِّنَ الْمُشْرِكِينَ ثُمَّ لَمْ يَنْقُصُوكُمْ شَيْئًا وَ لَمْ يُظَاهِرُوا عَلَيْكُمْ أَحَدًا فَاتِمُّوا إِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ إِلى مُدَّتِهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ 12 - یعنی مشرکین میں سے وہ لوگ جن کے ساتھ تمہارا عہد ہے اور انہوں نے عہد کو نہیں تو ڑا اور نہ تمہارے خلاف کسی کی مدد کی ہے پس تم ان کے عہد کی مدت کو پورا کرو۔اور یاد رکھو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ محبت رکھتا ہے۔پھر فرمایا وَامَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ إِلَيْهِمُ عَلَى سَوَآءِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَابِنِيْنَ 13