سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 477
سيرة النبي علي 477 جلد 1 دور ہو سکتے ہیں اور اگر اس کو نظر انداز کر دیا جائے تو بڑے بڑے خطرناک نتائج نکلتے ہیں۔مثلاً دیکھو جرمن چانسلر نے لڑائی شروع ہونے کے وقت کیا چھوٹا سا فقرہ منہ سے نکالا تھا کہ معاہدہ ایک کاغذ کا ٹکڑا ہوتا ہے اور کچھ نہیں۔لیکن اس سے کس قدر تباہی و بربادی پیدا ہوئی۔بہت سے ملک جو جرمنی کے مقابلہ پر کھڑے ہوئے انہوں نے اور باتوں کے علاوہ اس فقرہ کو بھی مدنظر رکھا۔پھر اور سیاسی وجوہات بھی تھیں جن کے ذریعہ اتحادی سلطنتوں نے لوگوں کو جرمنی کے خلاف جوش دلایا۔لیکن اس فقرہ سے بھی اپنے ممالک میں جوش پھیلانے میں انہیں بڑی مدد ملی۔اور انہوں نے اسی قسم کے فقروں سے عوام میں ایک جوش پیدا کر دیا۔اور ان کے جذبات کو جرمنی کے خلاف پورے زور کے ساتھ ابھار دیا۔تو ایسی باتیں بہت بڑا فتنہ ڈلواتی اور بڑے خطرناک نتائج کا موجب بن جاتی ہیں۔قرآن بڑے زور کے ساتھ مسلمانوں کو اس قسم کی باتوں سے روکتا ہے اور تاکید کرتا ہے کہ کوئی مسلمان اس طرح نہ کرے۔جب اسلام کی یہ تعلیم ہے تو اس کے مقابلہ میں مسلمان بھی دوسروں سے مطالبہ کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ کوئی ان کے ساتھ بھی ایسا نہ کرے۔اگر ایسا ہو جائے تو اس کے بعد آپس میں صلح اور اتحاد ہونا ایک یقینی امر ہے۔اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ آپس میں صلح اور اتفاق کو مستحکم اور مضبوط کرنے کے لئے یہی ضروری نہیں ہوتا کہ ایک دوسرے کے احساسات کا خیال رکھا جائے بلکہ یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ آپس میں نیک سلوک کیا جائے۔اسلام کے متعلق عام لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اس میں غیر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔حالانکہ اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس میں نہایت وضاحت کے ساتھ عمدہ سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔چنانچہ حکم ہے وَقَاتِلُوا فِي سَبِيْلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ ؟ اے مسلمانو! اللہ کے رستہ میں ان لوگوں سے مقابلہ کرو اور ان سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں۔مگر کسی پر کسی قسم کی زیادتی