سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 476

سيرة النبي علي 476 جلد 1 بھی ان کے بزرگوں کو گالیاں نہ دو۔اگر کوئی مسلمان زبان کی چھری چلاتا ہے اور حضرت کرشن ، حضرت رائم اور بابا نانک کو گالیاں نکالتا اور سخت الفاظ میں یاد کرتا ہے تو ان کو ماننے والے لوگ بھی مسلمانوں کے بزرگوں بلکہ خدا کو گالیاں دیں گے اور اس طرح آپس میں دشمنی اور عداوت پیدا ہو جائے گی۔ہم احمدی تو مانتے ہیں کہ حضرت رائم اور کرشن خدا کے نبی تھے اور حضرت بابا نانک ایک بزرگ انسان تھے۔مگر جو مسلمان ان کو ایسا نہیں مانتے وہ خیال کریں کہ وہ ان کے متعلق برے الفاظ استعمال کریں گے تو کیا ان کے ماننے والے مسلمانوں کے بزرگوں کے متعلق استعمال نہ کریں گے؟ ضرور کریں گے۔جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آپس میں عداوت اور دشمنی پیدا ہو جائے گی۔پس صلح اور آشتی ، اتفاق اور اتحاد کے لئے ضروری ہے کہ دوسرے لوگوں کے مذہبی جذبات اور احساسات کا خاص خیال رکھا جائے اور کوئی دل دکھانے والا کلمہ کسی مذہب کے بزرگوں کے متعلق استعمال نہ کیا جائے۔اسلام مسلمانوں کو یہی تعلیم نہیں دیتا کہ دوسروں کو جبراً مسلمان نہ بناؤ اور یہی نہیں کہتا کہ دوسروں کو مذہبی اختلاف کی وجہ سے دکھ اور تکالیف نہ دو بلکہ یہ بھی کہتا ہے کہ دوسروں کے جذبات کو بھی صدمہ نہ پہنچاؤ اور زبان سے بھی کسی کو آزردہ نہ کرو۔الله اس کے متعلق قرآن کریم کا حکم تو میں بتا آیا ہوں اب رسول کریم ﷺ کا عمل صلى الله پیش کرتا ہوں۔ایک دفعہ جب کفار نے صحابہ کو سخت تنگ کیا تو وہ رسول کریم علی کے پاس گئے اور جا کر کہا آپ مشرکین کے لئے بددعا کریں کہ خدا انہیں تباہ کرے۔آپ نے فرمایا میرا یہ کام نہیں اور خدا نے مجھے لعنتیں ڈالنے کے لئے نہیں بھیجا بلکہ رحمت بنا کے بھیجا ہے اس لئے میں ایسا نہیں کر سکتا ہے۔گو جھوٹے پر لعنت کرنا کوئی گالی نہیں اور نہ بری بات تھی کیونکہ جو جھوٹا اور شریر ہے اس پر خدا کی لعنت ہونی چاہئے لیکن جس پر کی جائے وہ برا مناتا ہے اس لئے ان کے احساسات کا خیال کر کے رسول کریم ﷺ نے ایسا نہ کیا۔پس اگر ایک دوسرے کے احساسات کا خیال رکھا جائے تو بہت سے فتنے