سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 466
سيرة النبي علي 466 جلد 1 صلى الله رسول کریم ﷺ کی ایک پیشگوئی حضرت مصلح موعود اپنے لیکچر فرمودہ 26 فروری 1919 ء میں فرماتے ہیں:۔الله اس مرض کی ابتدا تو رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ہی ہوئی جب کہ ایک صلى الله نا پاک روح نام کے مسلم نے رسول کریم ﷺ کے منہ پر آپ کی نسبت یہ الفاظ کہے کہ یا رسول اللہ ! تقویٰ اللہ سے کام لیں کیونکہ آپ نے تقسیم مال میں انصاف سے کام نہیں لیا۔جس پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ ضِتُضِئِي هَذَا قَوْمٌ يَتْلُونَ كِتَابَ اللهِ رَطْبًا لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمُرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمُرُقُ السَّهُمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ 1 - یعنی اس شخص کی نسل سے ایک قوم نکلے گی جو قرآن کریم بہت پڑھیں گے لیکن وہ ان کے گلے سے نہیں اترے گا۔اور وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جس طرح تیرا اپنے نشانہ سے نکل جاتا ہے۔“ (اسلام میں اختلافات کا آغاز صفحہ 24 مطبوعہ 1920ء) 1: بخارى كتاب المغازى باب بعث علی ابن ابی طالب و خالد ابن الوليد الى اليمن قبل حجة الوداع صفحہ 737 حدیث نمبر 4351 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية