سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 33
سيرة النبي علي 33 جلد 1 الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا 5 اور یہ خصوصیت کسی اور مذہب میں موجود نہ تھی بلکہ وہ خاص خاص حالات کے ماتحت ہوتے تھے۔پھر آپ کے مبارک نام کو کلمہ توحید کے ساتھ شامل کیا گیا ہے جو فضیلت کسی نبی کو نہیں دی گئی۔یہ بھی آپ کے ختم نبوت پر ایک دلیل ہے۔آپ پر جس زبان میں کلام الہی اُترا ہے وہ اب تک زندہ ہے اور قیامت تک زندہ رہے گی۔یہ فضیلت بھی کسی اور مذہب کے بانی کو نہیں ملی۔موسی مسیح، زرتشت، بدھ ، ویدوں کے رشی ، کسی مدعی رسالت کی زبان اب تک محفوظ نہیں اور کسی ملک میں بھی نہیں بولی جاتی۔جس کی وجہ سے نہ معلوم ان کی کتب میں اب تک کس قدر تغیر ہو چکے ہیں۔آپ کو وہ صحابہ ملے کہ کسی اور کو نہیں ملے۔جانثار سپاہی ، فرمانبردار، مدبر، محتاط راوی ، مخلص ، حافظ قرآن پاک ،بیان، نیک ذریت ، کامل خلفاء، کوئی چیز بھی تو نہیں کہ جس سے آپ محروم رہے ہوں اور جو آپ کی تعلیم کے پھیلنے میں رکاوٹ کا باعث ہوئی ہو۔اس کی وجہ کہ آپ خاتم النبیین کیوں ہوئے؟ یہ ہے کہ آپ گل صفات الہیہ کے مظہر تھے اور پہلے انبیاء ایسے نہ تھے۔چنانچہ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ دَنَا فَتَدَنٰی فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنی یعنی آپ اللہ تعالیٰ سے ایسے قریب ہوئے کہ قوسین ملائی جاویں تو ان کے درمیان فاصلہ رہتا ہے، اتنا فاصلہ آپ میں اور اللہ تعالیٰ میں رہ گیا ( یعنی کوئی فاصلہ نہ رہا) یہاں تک کہ وہ بھی نہ رہا اور آپ اس سے بھی قریب ہو گئے۔یعنی آپ نے اپنی کمان رکھی ہی نہیں خدا کی ہی کمان میں اپنی کمان کو داخل کر دیا اور اس طرح جہاں خدا تعالیٰ کا تیر چلا وہیں آپ کا چلا اور جس کی حمایت میں چلا آپ کا تیر بھی اسی کی حمایت میں چلا ، تو گویا گل صفات الہیہ کے آپ مظہر ہو گئے۔چنانچہ حدیث شریف میں بھی ہے کہ اُوتِيْتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ یعنی ہر قسم کے کمالات