سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 34
سيرة النبي علي 34 جلد 1 مجھے دیئے گئے ہیں۔جس کی تائید قرآن شریف کی اس آیت سے بھی ہوتی ہے کہ وَعَلَّمَ ادَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا 8۔پس آپ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کے مظہر تھے جن کا تعلق انسان کی ترقیات سے ہے اور قرآن شریف سے ثابت ہے کہ خاص خاص زمانوں میں خاص خاص ملکوں میں خدا تعالیٰ کی خاص خاص صفات کا ظہور ہوتا ہے۔پس پہلے تو یہ ہوتا تھا کہ ایک خاص صفت الہیہ کے ظہور کے وقت اُس زمانہ کے نبی کے کمالات اس کے متحمل نہیں ہو سکتے اس لئے ایک اور نبی بھیج دیا جاتا تھا لیکن اب خواہ کسی زمانہ میں کسی ملک یا قوم پر کسی صفت الہیہ کا ظہور ہوتا ہو تو رسول اللہ ہے کے کمالات اس صفت کو اخذ کر کے دنیا پر پھیلانے کے لئے موجود ہوتے ہیں اور اس وجہ سے اب کسی ایسے نبی یا رسول کے بھیجنے کی ضرورت نہیں رہی جو آپ سے الگ ہو کر اپنا سلسلہ قائم کرے بلکہ جو کمالات بھی کہ انسان حاصل کر سکتا ہے وہ آپ ہی کے اتباع صلى الله سے کرسکتا ہے۔لیکن باوجود ان کمالات کے جو آپ میں پائے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ آپ کی عبودیت ظاہر کرنے کے لئے فرماتا ہے۔مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَأَبِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمُ و تا ایا نہ ہو کہ وہ کمزور فطرتیں جو آپ سے بہت ادنیٰ درجہ کے انسانوں کو بھی خدا یا خدا کا بیٹا قرار دیتی رہی ہیں آپ کی شان کو دیکھ کر آپ کو بھی کوئی ایسا ہی خطاب نہ دے دیں۔اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلَّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ ( بدر 23 مارچ 1911 ء صفحہ 2) مجيد 1: النجم: 54 2: الانفال : 18 3: الانعام : 163 4 مکتوبات امام ربانی دفتر اول حصہ چہارم صفحہ 138 مطبوعہ 1330ھ