سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 463
سيرة النبي علي 463 جلد 1 تھے۔ادھر ہندوستان میں بت پرستی کی یہ حالت تھی کہ گو وہ کہتے تھے ایک خدا کی پرستش کرنی چاہئے لیکن قسم قسم کے بتوں کو پوجتے اور ان کی پرستش کرتے تھے اور مسیحی تو حضرت عیسی کو خدا کا بیٹا بنا ہی چکے تھے۔اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ اس زمانہ میں تمام اقوام باوجود شرک کی منکر ہونے کے توحید پر قائم نہ رہی تھیں۔گویا وہ ڈرتی تھیں کہ اگر توحید پر قائم رہیں تو مٹ جائیں گی۔جیسا کہ آج کل پردہ کے متعلق عام لوگوں کا خیال ہے اور اس کے خلاف اسی بنا پر ایک رو چلی ہوئی ہے جس سے متاثر ہو کر مسلمان بھی کہتے ہیں کہ اب یا تو پردہ کو بالکل اڑا دیا جائے یا اس قدر خفیف اور ہلکا کر دیا جائے کہ اہل یورپ کو معلوم نہ ہو سکے کہ ہم پردہ کے پابند ہیں۔اسی طرح تعدد ازواج کے متعلق مسلمانوں کی کوشش ہے کہ یورپ سے اس کو چھپایا جائے اس کے لئے طرح طرح کے بیچ ڈالے جاتے ہیں لیکن اصل بات یہی ہے کہ آج کل جور و چلی ہوئی ہے اس سے ڈر پیدا ہو رہا ہے کہ اگر ہم اس کے سامنے کھڑے رہے اور اس کے ساتھ نہ بہنے لگے تو ہمارا مذہب قائم نہیں رہ سکے گا۔اسی طرح اور مسائل ہیں مثلاً نماز۔اس کے متعلق کہا جاتا ہے ظاہر نماز کی کیا ضرورت ہے، یہ پہلے لوگوں کے لئے تھی اب تو صرف اتنا ہی کافی ہے کہ میز کرسی پر بیٹھ کر خدا کی حمد گالیں اور جب خدا کا نام آئے تو ذرا سر جھکا دیں اور بس۔یہ کیوں کہا جاتا ہے؟ اس لئے کہ آج کل جو رو چلی ہوئی ہے اس کی وجہ سے لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم اپنے اصلی عقائد پر قائم رہے تو مٹ جائیں گے۔یہی حالت توحید کی اُس زمانہ میں ہو چکی تھی جس میں رسول کریم ہے مبعوث ہوئے۔تمام کے تمام مذاہب میں ایک روچل گئی تھی کہ ہم اُس وقت تک قائم نہیں رہ سکتے جب تک کہ کسی نہ کسی رنگ میں شرک کو اختیار نہ کر لیں۔کس خبيث الفطرت انسان کے دل میں پہلے پہل یہ رو پیدا ہوئی۔تاریخ سے اس کا پتہ نہیں ملتا لیکن اس میں شک نہیں کہ یہ گندی رو پیدا ضرور ہوئی اور ابلیس کی تائید۔پھیلتی گئی۔