سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 462
سيرة النبي علي 462 جلد 1 حضرت موسی کے ذریعہ ایک ایسی لہر ضرور پیدا ہوئی جو تمام بنی اسرائیل میں پھیل گئی۔پھر دنیا حضرت مسیح کے نبی اللہ ہونے کا انکار کرے تو کرے مگر اس بات کا انکار نہیں کر سکتی کہ ان کے زمانہ میں بھی ایک لہر اٹھی تھی۔اسی طرح یہ اور بات ہے کہ رسول کریم صلى الله کو تمام لوگ خدا تعالیٰ کا نبی نہ مانیں مگر اس میں شک نہیں کہ یہ بات ماننے کے لئے ساری دنیا مجبور ہے کہ آپ کے ذریعہ دنیا میں ایک ایسا تغیر ضرور پیدا ہوا جو اس سے پہلے کبھی نہیں پیدا ہوا تھا۔یہ نمایاں اور ہر ایک کو محسوس ہونے والا اثر ہے۔روحانی لہر کا در پرده اثر اگر پوشیدہ اثر جس کو عام لوگ محسوس نہیں کرتے مگر واقعات بتاتے ہیں کہ چھوٹے سے چھوٹا عمل دنیا میں پھیلتا ہے اور ایک ہی جگہ نہیں ٹھہر جاتا اور جو مشین چلائی جاتی ہے وہ ٹھہرتی نہیں بلکہ آگے ہی آگے جاتی ہے۔اور جس طرح ہماری تمام حرکات اس جو میں پھیل جاتی ہیں اور ان کے اثرات دور تک پہنچتے ہیں اسی طرح روحانی دنیا میں جو لہر اٹھتی ہے وہ بھی پھیلتی ہے اور دور دور تک پہنچتی ہے۔چنانچہ رسول کریم ﷺ کی مثال شرک کی رو جو نمایاں طور پر تاریخ میں محفوظ ہے اس کو لیتے ہیں۔رسول کریم ﷺ ایک ایسے زمانہ میں مبعوث ہوئے جس میں تمام اقوام عالم عموما شرک میں مبتلا تھیں۔عموما کا لفظ میں نے اس لئے استعمال کیا ہے کہ اُس زمانہ میں بعض ایسے افراد بھی تھے جو فردا فردا وحدانیت کے قائل تھے لیکن ان کا کوئی اثر نہ تھا۔عام طور پر ہر جگہ شرک ہی شرک تھا اور اُس زمانہ میں ایک سے زیادہ خدا مانا ایک فیشن کے طور پر ہو گیا تھا۔جس کا ثبوت اس طرح ملتا ہے کہ جو قو میں تو حید مانتی تھیں ان میں بھی کسی نہ کسی رنگ میں ایک سے زیادہ خدا تسلیم کئے جاتے تھے۔بنی اسرائیل جن کی ساری کتابیں کہہ رہی تھیں کہ ایک کے سوا کسی کو خدا نه مانو وہ بھی کہتے تھے کہ عزیر خدا کا بیٹا ہے۔اسی طرح زرتشتی جن کے مذہب کی بنیاد ابتدا میں خالص توحید پر تھی وہ بھی ایسی حالت میں تھے کہ بالکل شرک میں مبتلا