سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 448
سيرة النبي علي 448 جلد 1 رسول کریم میہ کی قرآن سے محبت حضرت مصلح موعود نے رسول کریم ﷺ کی قرآن سے محبت اور امتِ مسلمہ کے متعلق درد کا اظہار کرتے ہوئے 27 دسمبر 1917 ء کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔خدا تعالیٰ قرآن کریم کے متعلق ایک درد کا اظہار کرتا ہے اور چونکہ قاعدہ ہے کہ پیارے اور محبوب کے منہ سے نکلی ہوئی بات زیادہ اثر کرتی ہے اس لئے خدا تعالیٰ رسول کریم ﷺ کی زبانی ہی فرماتا ہے کہ قیامت کے دن ہمارا رسول ان لوگوں کے متعلق جنہوں نے صداقت کو قبول نہ کیا ہوگا قرآن کی طرف اشارہ کر کے کہے گا يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا 1۔اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو بالکل ترک کر دیا۔یعنی اس قرآن کو میری قوم نے بالکل چھوڑ دیا اور اس کو نہ سیکھا نہ سمجھا۔یہ ایک نہایت مختصر سا فقرہ ہے مگر اس میں ایسا دردبھرا ہوا ہے کہ یہ میرے سامنے کبھی نہیں آیا کہ میرا دل اس کو پڑھ کر کانپ نہیں گیا۔دیکھو رسول کریم ہے یہ نہیں فرماتے کہ اے میرے رب! میری قوم نے قرآن کو بالکل ترک کر دیا حالانکہ یہی کہنا کافی تھا بلکہ کہتے ہیں يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا اے میرے رب ! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ دیا۔یہاں ھذا کا لفظ بہت ہی درد اور افسوس کو ظاہر کر رہا ہے۔فرماتے ہیں خدایا ! تو نے میری قوم کو یہ ایسی اعلیٰ درجہ کی نعمت دی تھی اور ایسی بابرکت کتاب بخشی تھی کہ جس کی کوئی مثال نہ تھی مگر میری قوم نے اس کو بھی چھوڑ دیا۔تو قرآن کریم اپنے اندر اس قدرخوبیاں اور برکات رکھتا ہے کہ اس کا چھوڑ نا سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ کوئی کس طرح گوارا کرسکتا ہے۔رسول کریم ﷺ بھی