سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 435

سيرة النبي علي 435 جلد 1 پوچھا کہ اے انصار ! کیا تم نے اس طرح کہا ہے ؟ وہ لوگ منافقت پسند نہ کرتے تھے جن کی مجلس میں یہ باتیں ہوئی تھیں اُنہوں نے کہہ دیا کہ حضور ! بعض نادان نو جوانوں نے بے شک کہہ دیا ہے لیکن ہمیں کسی قسم کا اعتراض نہیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا اے انصار ! تم میری نسبت کہہ سکتے ہو کہ یہ اکیلا آیا تھا ہم نے اس کا ساتھ دیا، اسے گھر والوں نے نکال دیا تھا ہم نے اس کو جگہ دی ، اس پر دشمنوں نے حملے کئے ہم نے ں تلواروں سے اس کی مدد کی ، اسلام غریب تھا ہم نے اپنے مالوں سے اس کی مدد کی لیکن جب وقت آیا تو ہماری قدر کرنے کی بجائے غیروں کو مال دیئے گئے۔پھر تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ خدا کے رسول کو ہم نے اُس وقت قبول کیا جبکہ اُس کے شہر والوں نے اُس کو نکال دیا تھا مگر آج مال اُن کو دے دیا گیا مگر اے انصار ! کیا تم اس بات کی قدر نہیں کرتے کہ مہاجرین بھیڑ اور بکریاں لے کر اپنے گھروں کو واپس لوٹ رہے ہیں اور تم خدا کے رسول کو گھر لے آئے ہو۔انصار نے پھر عرض کیا حضور ! بعض نوجوانوں نے نادانی سے یہ کہہ دیا ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا اچھا جو ہونا تھا ہو گیا تم میں سے بعض نے دنیا کی خواہش کی جس کا نتیجہ تمہیں بھگتنا پڑے گا اب تم اپنا حصہ کوثر پر مجھ سے مانگنا 2۔اس پر غور کرو کہ مدینہ میں جو چند مہاجرین تھے ان کی نسل تو دنیا میں کثرت سے موجود ہے مگر انصار جو کہ وہیں کے باشندہ تھے ان کی نسل دنیا سے ایسی معدوم ہوئی کہ تمام دنیا میں بہت ہی تھوڑے لوگ ہیں جو اس نسل سے تعلق رکھتے ( الفضل 28 جولا ئی 1917ء) ہیں۔66 1 بخاری كتاب الزكواة باب اخذ صدقة التمر عند صرام النخل صفحه 242،241 حدیث نمبر 1485 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية صلى الله 2: بخاری کتاب فرض الخمس باب ما كان النبى الله يعطى المؤلفة قلوبهم صفحه 523 حدیث نمبر 3147 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية