سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 429
سيرة النبي علي 429 جلد 1 ہے۔اس کی خواہش ہے کہ سب دنیا اس کے پاس آجائے تا وہ دکھوں اور مصیبتوں سے نجات پا جائے۔جس طرح انسان مال کو اس لئے جمع کرتا ہے کہ محفوظ ہو جائے اسی طرح آپ یہی چاہتے کہ لوگ جن کے لئے الگ الگ رہنے میں ہلاکت ہے آپ کے پاس آجائیں تا ہلاکت سے بچ جائیں۔تو فرمایا کہ یہ مومنوں کو جمع کرتا اور خدا کی محبت پیدا کرنے کے طریقے سکھاتا ہے۔پھر فرمایا بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ کہ جب یہ لوگوں کو جمع کر لیتا ہے تو ان سے رافت اور رحمت کا سلوک کرتا ہے۔حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ کا نتیجہ تو یہ ہے کہ مومن پیدا ہوں۔جب مومن پیدا ہو گئے تو اب یہ بتانا تھا کہ ان کے ساتھ کیسا سلوک کرنا ہے اس لئے فرمایا وہ لوگ جو اس کے پاس آجاتے ہیں ان سے نہایت ہی شفقت، رافت ، محبت ، رحم وکرم کا سلوک کرتا ہے۔بعض لوگ تو جمع کرنے تک اچھا سلوک کرتے ہیں۔جب ان کے قبضہ میں لوگ آجاتے ہیں تو پھر ان کی کچھ پرواہ نہیں کرتے۔لیکن آپ کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپ نہایت ہی شفقت سے پیش آتے ہیں اور آپ ان کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔یہ ایک کرشمہ ہے نبی کریم ہے کے ان اعلیٰ اخلاق اور اعلی محاسن کا جو قرآن شریف میں بیسیوں جگہ ذکر ہوئے ہیں۔پس غور کرو کیسا ہے وہ انسان اور کتنا بڑا ہے اس کا رتبہ۔جولوگ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے ان پر کس قدر افسوس ہے۔دیکھو آج ہمیں مسیح موعود علیہ السلام ملا تو اس کے طفیل۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت اسی کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔آپ کی امت بگڑ چکی ہے اور ضرورت تھی کہ آپ کا کوئی خادم اٹھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت اس میں کام کرے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضرت کی روحانیت سے مبعوث ہوئے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر با وجود ان تمام خوبیوں کے لوگ توجہ نہ کریں تو کہہ دو