سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 427
سيرة النبي علي 427 جلد 1 سے خدا کا نبی آیا لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ اسی آیت میں خدا تعالیٰ نے الفاظ کے لحاظ سے مجمل مگر معانی کے لحاظ سے مفصل آپ کی زندگی کے تمام پہلوؤں کو بیان کر دیا ہے۔مشرکین کو کہا گیا ہے کہ تم اپنی کسی بات کو پیش کرو اس کا عمل اس کے خلاف ہی ہو گا۔تم مشرک ہو مگر یہ پکا موحد ہے۔تمہارے اخلاق میں رذالت ہے مگر اس کے اخلاق نہایت اعلیٰ درجہ کے ہیں۔تم ظالم ہو مگر یہ رحیم ہے حالانکہ یہ بھی تم میں پیدا ہوا، تم میں ہی رہا تمہارے پاس ہی عمر گزاری، با وجود اس کے جب اس میں ایسی اعلیٰ درجہ کی باتیں پائی جاتی ہیں تو اس کی عظمت اور بڑائی کا اندازہ کرو۔پھر فرمایا عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوْفٌ رَّحِیم پہلے آپ کی عظمت بیان کی اس کے بعد آپ کے رسول ہونے کا ذکر کیا۔پھر فرمایا اس پر شاق گزرتا ہے، اس پر ایسا بوجھل ہوتا ہے کہ جس سے کمر ٹوٹ جائے (وہ امر جس کی برداشت نہ ہو اس کو امر عزیز کہتے ہیں ) جب تم پر کوئی مشکل اور مصیبت آئے تو یہ تکلیف میں پڑ جاتا ہے۔مگر ہر تکلیف کے وقت نہیں بلکہ اُسی وقت جبکہ دیکھتا ہے کہ تم پر ایسی مصیبت آئی ہے جو مافوق ہے۔وہ استاد جو جانتا ہے کہ لڑکے کی اصلاح کس طرح ہوتی ہے وہ کسی وقت اُس کو سزا بھی دیتا ہے مگر اُس کا سزا دینا اُس کی اصلاح کو مدنظر رکھ کر ہوتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ اُس وقت اُس کو سزا دینی چاہئے یا نہیں؟ ماں باپ کو اس میں دخل دینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔لیکن اگر ماں باپ دیکھیں کہ استاد کی سزا لڑکے کی طاقت سے بڑھ کر ہے اور ایسی ہے کہ وہ بجائے اصلاح کے بچہ کا خاتمہ کر دے گی تو بے شک ماں باپ دخل دیں۔لیکن جو والدین استاد کی ہر ایک سزا میں دخل دیتے ہیں اور واجبی سزا سے بھی گھبراتے ہیں وہ گویا اپنی اولا د کو آپ خراب کرتے ہیں۔پس نبی کریم ﷺ کی یہی حالت ہے کہ اگر کوئی ایسی بات ان لوگوں پر آتی ہے کہ جس سے وہ برباد ہونے لگتے تو آپ پر یہ بات شاق گزرتی مگر واجبی