سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 419

سيرة النبي علي 419 جلد 1 خدا کا سب سے زیادہ شکر گزار بندہ صلى الله حضرت مصلح موعود 5 جنوری 1917 ء کو خطبہ جمعہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں:۔ہم میں سے ہر ایک کو چاہئے کہ عمل میں ترقی کرے۔صحابہ نے رسول کریم ملی سے عرض کیا کہ حضور ہم تو عمل میں کوشش اس لئے کرتے ہیں کہ ہمارے گناہ معاف ہوں لیکن آپ کے تو خدا نے سب اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیئے ہیں آپ کیوں اس قدر کوشش کرتے ہیں؟ یہ سن کر آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور فرمایا کیا میں تم سے زیادہ اتقی نہیں ہوں؟ پھر فرمایا کہ کیا میں عبد شکور نہ بنوں؟1 میرے لئے عبادت شکر کے طور پر ہے کیونکہ جس پر زیادہ فضل ہو وہ زیادہ مستحق ہے کہ دوسروں سے بہت زیادہ عبادت اور شکر گزاری کرے۔تو خدا تعالیٰ کے فضلوں کا نتیجہ ستی نہیں ہونا چاہئے بلکہ عبادت اور شکر گزاری میں اور بڑھنا چاہئے۔یہاں رہنے والے دوست خوب سن لیں اور باہر کے دوستوں کو اخبار کے ذریعہ یہ بات پہنچ جائے گی کہ ہماری جماعت کے لوگ شکر گزاری میں اور بڑھیں اور ان کی کوششوں میں اور زیادہ ترقی ہو۔یہ نہ ہو کہ جلسہ کے دنوں میں جو جوش و اخلاص آپ لوگوں نے دکھایا ہے اور جو معرفت اِن دنوں حاصل ہوئی ہے اس کو اور زیادہ نہ بڑھاؤ اور اس میں ترقی نہ کرو۔یہ سب خدا کے فضل کے نظارے ہیں جو آپ لوگوں نے دیکھے ہیں۔بس آپ لوگوں کو چاہئے کہ خدا کی حمد وثنا میں اور بڑھیں اور اپنی کوشش اور سعی کو اور زیادہ وسیع کر یہ دیکھو آ نحضرت ﷺ سے زیادہ کس پر خدا کے فضل ہوں گے۔لیکن جس قدر